اگرچہ خواب کی وادی میں چاندنی سی ہے
مگر زمیں ، مرے قدموں میں دلدلی سی ہے
ہے کون دیس کا جانے ، پتہ نہیں معلوم
بھلا سا نام ہے ، صورت بھلی بھلی سی ہے
کوئی تو چاند کو جا کر مرے خبر کر دو
کہ صحنِ دل میں کئی دن سے تیرگی سی ہے
یہ خوف ہے ، کہ نہ دنیا پہ آشکار ہو
جو میرے چہرے پہ رنگت بہار کی سی ہے
کبھی کبھی وہ تصور میں ، در تو آتا ہے
وگرنہ اس سے ملاقات سرسری سی ہے
میں اس سے ملنے کو کترا رہی ہوں تمثیلہ!
کئی دنوں سے طبیعت میں سر کشی سی ہے
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply