Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , Snippets , / Wednesday, February 19th, 2025

عمر بھر ایک ہی معنی تو نہیں چھاؤں کے
حوصلے ٹوٹ بھی جاتے ہیں کبھی ماؤں کے

دشت کے سینے پہ کچھ نقش بنے پاؤں کے
اور ہیبت سے جگر پھٹ گئے صحراؤں کے

دیکھتی ہیں کبھی قبروں، کبھی بچوں کی طرف
دیکھنا عید پہ چہرے کبھی بیواؤں کے

شہر میں آئے تو شیشے کی طرح نازک تھے
اور پھر سنگ ہوئے لوگ مرے گاؤں کے

جتنی گہری تری آنکھیں ہیں مرے دشت نورد
اس قدر گہرے تو سینے نہیں دریاؤں کے

آپ ان کو فقط آنسو نہ سمجھنا یارو
یہ جنازے ہیں، جنازے بھی تمناؤں کے

گھر سے نکلے ہوئے بچوں کی خدا خیر کرے
گھر میں بیٹھے ہوئے دل بیٹھ گئے ماؤں کے

فہد قیصرانی


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International