Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Tuesday, March 18th, 2025

تجھ سے پیغام رسانی کا وسیلہ تو نہ تھا
دل مرا ، پھر بھی رہِ عشق میں تنہا تو نہ تھا

کن امیدوں پہ میں اس موڑ پہ بیٹھی رہتی
تو نے اک بار بھی ، مڑ کر مجھے دیکھا تو نہ تھا

اس قدر لمبی مسافت جو پڑی قدموں میں
تیری دنیا تھی ، مرا خواب جزیرہ تو نہ تھا

اس کڑی دھوپ میں سستائے بھی کیسے کوئی
دشت میں حدّ ِ نظر تک کہیں سایہ تو نہ تھا

ذہن میں نقش ہے تب بھی ، تری یادوں کی مہک
گو نگاہوں میں بہت دیر تُو ٹھہرا تو نہ تھا

اتفاقاً ہی ملاقات تھی اپنی شاید
کاتبِ بخت نے تجھ کو ، مرا لکھا تو نہ تھا

شاخ ، تمثیلہ اگر کاٹنی لازم ہے تو دیکھ !
اُس پہ پنچھی کا کوئی رین بسیرا تو نہ تھا

تمثیلہ لطیف


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International