rki.news
بازارِ کہکشاں سے نہ شمس و قمر سے ہم
آے ہیں تم سے ملنے محبّت نگر سے ہم
مدّت کے بعد دیکھا ہے تم کو جنابِ من
کیوں کر نہ پھر لگائیں تمھیں دل جگر سے ہم
ہر-ہر قدم پہ دیں ہیں ہمیں تم نے زحمتیں
دیکھیں تمھاری سمت بھلا کس نظر سے ہم
دیدارِ حسنِ یار کے ادنیٰ سے شوق میں
گزرے ہیں لاکھوں بار ہر اِک رَہ گزر سے ہم
عادت میں ٹوٹ کر بھی نہ آے گا کوئی فرق
ہم ائینے ہیں لڑتے رہیں گے حَجر سے ہم
خاطر میں کوئی لاۓ تو کیوں لاۓ جی ہمیں
آۓ ہیں بن بلاۓ دیارِ ظفر سے ہم
اس دن سے ہی شروع زوال اپنا ہو گیا
جس دن سے دور ہو گئے علم وہنر سے ہم
آنکھوں میں اتظار کی قوّت نہیں رہی
کب تک نہاریں تم کو بھلا بام و در سے ہم
کیا بود و باش ان کی بثائیں میاں تمھیں
رہنےلگے ہیں خود سے ہی اب بے خبر سے ہم
ہر گام جس نے ہم کو اذیّت ہی دی فراز
کیسے ملائیں ہاتھ بھلا اس بشر سے ہم
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی
Leave a Reply