میری آنکھیں سجائے تو
کبھی خوابوں میں آئے تو
وہ حُسنِ لامکاں میری
کبھی نظروں میں آئے تو
نظر ٹھہری ہے مدت سے
وہ پردہ بھی اٹھاۓ تو
سوا اُس کے میں کیا لکھوں
کوئی آنکھوں کو بھائے تو
منانے کے کروں حیلے
اگر وہ رُوٹھ جائے تو
میں اُس کو یاد آؤں گا
مجھے پہلے بُھلائے تو
جمیل اک خوف ہے طاری
وہ سب کچھ بھول جائے تو
Leave a Reply