rki.news
دل تو دماغ اپنا کھینچے ہے آسماں پر
لکھ دوں گا نام ان کا دل کے کسی مکاں پر
تم ڈھونڈتے رہو گے وہ نام ہے کہاں پر
میدان امتحاں میں وہ سر خرو ہوئے تھے
آ کر چلے گئے وہ ہم لوگ ہیں جہاں پر
آئے تھے درس دینے دے کر چلے گئے وہ
ہم جان بھی نہ پائے ہیں کس لئے یہاں پر
بازار عشق و الفت خالی پڑے ہوئے ہیں
ہے بھیڑ کچھ زیادہ نفرت کی اس دکاں پر
وہ جھوٹ بولتا ہے یوں خوبصورتی سے
سب لوگ ہیں پریشاں اس شخص کے بیاں پر
جب سے سمجھ لیا ہے میں نے وہ راز کیا ہے
دل تو دماغ اپنا کھینچے ہے آسماں پر
آب وفا سے میں نے منصور جب سے سینچا
رقصاں بہار نو ہے ہر شاخ گلستاں پر
منصور اعظمی دوحہ قطر
Leave a Reply