rki.news
دستِ وحشت سے نِکل سکتے ہیں
ہم بھی گر-گر کے سنبھل سکتے ہیں
آپ کیا آپ سے اچّھے – اچّھے
وقت کے ساتھ بَدل سکتے ہیں
گھر پرندوں کے جلانے والے
شاخِ گل کو بھی کُچل سکتے ہیں
غیر ممکن نہ سمجھىۓ اِس کو
ڈسنے والے بھی نِگل سکتے ہیں
یوں نہ بے پردہ نکلىۓ گھر سے
دل غلاموں کے مَچل سکتے ہیں
آتشِ عشق کی لَو سے اِک دن
سَنگ راہوں کے پِگھل سکتے ہیں
اِیسے بل کھا کے نہ چلىۓ صاحب
دیکھىۓ پاؤں پھِسل سکتے ہیں
جھوٹ کا لے لیں سہارا گر ہم
آپ سچ بات اُگل سکتے ہیں
شدّتِ دَرد سے چیخو نہ فرازؔ
سوتے- سوتے وہ اُچھل سکتے ہیں
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ
Leave a Reply