rki.news
نیلام گھر میں ، دام تو لگتا ضرور ہے
یوسف بھی آ کے مصر میں ، بکِتا ضرور ہے
دل لڑکیوں کا چاہے ، طلب سے ہو بے نیاز
میلے میں چوڑیوں کو مچلتا ضرور ہے
دنیا نے کی ہوں لاکھ چھپانے کی کوششیں
وہ عشِق ہو کہ مشُک ، مہکتا ضرور ہے
راتوں کو بھول کر بھی سنانا ، نہ داستاں
اپنا کوئی ، سفر میں بھٹکتا ضرور ہے
تم چاہے جتنا دودھ پلاؤ خلوص سے
پر سانپ آستین کا ڈستا ضرور ہے
لگتا اپنی ڈار سے جیسے بچھڑ گیا
پنچھی اداس ، شاخ پہ رہتا ضرور ہے
شاید قلم بھی ہوگیا عادی حروف کا
اک نام بے خیالی میں لکھتا ضرور ہے
تمثیلہ ، اب وہ شدتیں باقی نہیں مگر
آنچل ہوا کی زد پہ مچلتا ضرور ہے
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Leave a Reply