rki.news
بُھوت سر پر سوار ہوتا ہے
عِشق کا یوں بُخار ہوتا ہے
ٹُوٹ جاتا ہے پِھر نشہ خود ہی
چار دِن کا خُمار ہوتا ہے
جِس کی خاطر ہو بیقراری سی
وہ ہی دل کا قَرار ہوتا ہے
وسوسے اپنا گھر بناتے ہیں
ہر یقیں تار تار ہوتا ہے
اَشک اپنے جو روک لیتے ہیں
اُن کے دِل میں غُبار ہوتا ہے
یہ محبت بھی ہو ہی جاتی ہے
اِس پہ کب اختیار ہوتا ہے
اب بھی اُس بے وفا کی یادوں کا
چاروں جانب حصار ہوتا ہے
عِشق میں غم مِلے اگر ذُلفی
راحتوں میں شُمار ہوتا ہے
✍🏻 ذوالفقار علی ذُلفی
پنڈ دادنخان جہلم
Leave a Reply