rki.news
چار سُو چرچا ہوا کس قامتِ گلزار کا
منتظر ہے سارا عالم اس کے ہی دیدار کا
دیکھتے ہی اسکو چہرہ کھل گیا تھا میرا یوں
جیسے موسم آگیا ہو یک بیک انوار کا
دلربا تیرا سراپا اور دلکش ہے وجود
اک حسیں لہجہ ترا ہے جیسے خوش گفتار کا
دیکھنے کی اسکو حسرت میں لیے پھرتا ہوں آج
مجھ کو موقع کب ملے گا پیار کے اظہارِ کا
چہرہ اس کا دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا
راز داں بھی اک وہی تھا میرے حالِ زار کا
کھل گیا چہرہ مرا اس کا تبسم دیکھ کر
دلربا ایسا سراپا تھا مرے دلدار کا
پروفیسر ڈاکٹر طارق بشیر
Leave a Reply