rki.news
شناسا ہے میرا ، نہ غم آشنا ہے
تو پھر قبر پر اِیسے کیوں رو رہا ہے
کسی کی رسائی نہیں میرے گھر تک
یہ کیوں پھر دیا ، راہ پر رکھ گیا ہے
جو عنوان ہے ، رزمیہ شاعری کا
وہ خیبر شکن ہے ، وہ شیرِ خدا ہے
سمجھنے لگی ہوں میں الفاظ اس کے
نظر کی زباں سے جو کچھ بولتا ہے
وہ بچھڑا ہے جب سے تو لگتا ہے ایسے
کہ جیسے مرا کچھ ، کہیں کھو چکا ہے
اگر مان جائے تو اس سے یہ پوچھوں
وہ کس بات پر آخر اتنا خفا ہے
ہیں تمثیلہ ، کیوں ذہن و دل منتشر یوں
یہ کیا کر رہی ہو ، یہ کیا ہو رہا ہے
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply