Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Friday, August 2nd, 2024

کبھی بھی تجھ سے شرارت نہیں کروں گا میں
کہ ہو گئی تو وضاحت نہیں کروں گا میں

تمہاری زلفوں کا گاہک زمانہ ہے لیکن
سنو کہ ایسی تجارت نہیں کروں گا میں

پلٹ کے وار کیا تو وہ ہڑ بڑا گیا ہے
اسے لگا تھا کہ جرات نہیں کروں گا میں

اسی لئے تو وہ مسند سے گھورتا ہے مجھے
اسے پتہ ہے بغاوت نہیں کروں گا میں

کہ ڈھال پھینک کے تلوار اٹھائی ہے میں نے
سو اب کسی سے رعایت نہیں کروں گا میں

وہ جانتی ہے ہوس تشنگی کا زیور ہے
وہ جانتی ہے محبت نہیں کروں گا میں

ہزار رنج ملیں تیرے عشق میں مجھ کو
یہ بات لکھ لے شکایت نہیں کروں گا میں

حسین ابن علی درس گاہ ہیں میری
کسی یزید کی بیعت نہیں کروں گا میں

محبتوں کو تواتر سے موڑ دوں گا دوست
امانتوں میں خیانت نہیں کروں گا میں

دو چار شعر لکھوں گا میں ذائقے کے ساتھ
غزل میں آج طوالت نہیں کروں گا میں

عمیر شیری

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: غزل, ID: 9392

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 9392
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: غزل, ID: 9392

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International