خدا کی ذات پہ جو انگلیاں اٹھاتے ہیں
ہاں ایسے لوگ جہنم میں گھر بناتے ہیں
یہ خاکِ دل ہے اِسے ہم نے شکل دینی ہے
آ کوزہ گر کے ترے چاک کو گھماتے ہیں
کبھی تو دل سے نکالے گا ہم کو اپنے وہ
راہِ فرار بھی دیوار میں بناتے ہیں
جو ہم سے صرف محبت کی بات کرتے ہیں
ہم اُن کے ناز زمانے میں کیوں اٹھاتے ہیں
اِسی کو عشق میں کارِ جدائی کہتے ہیں
یہی وہ نقص ہے جو ہم تجھے دکھاتے ہیں
کہ دل کا حال بیاں کر نہیں سکیں گے ہم
کچھ اس لیے بھی تجھے شاعری سناتے ہیں
اُنہیں خبر ہے محبت مہکتی ہے ہم میں
پرندے یوں تو نہیں گیت گنگناتے ہیں
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 10532
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 10532 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 10532
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply