اجالا ہو رہا تھا میں نے روکا
سب اچھا ہو رہا تھا میں نے روکا
میں خود کو اس سے بہتر جانتا تھا
وہ میرا ہو رہا تھا میں نے روکا
مجھے وہ راستے میں چھوڑ کر جب
تمہارا ہو رہا تھا میں نے روکا
تمہارے عشق کی یہ دھوپ جانے
وہ کالا ہو رہا تھا میں نے روکا
کہ دل اٹی کے بھاؤ بک رہا تھا
یہ سودا ہو رہا تھا میں نے روکا
تمہارے بن کسی مفلس کا یوں بھی
گزارا ہو رہا تھا میں نے روکا
دیے کے ہاتھ سیدھے کر کے اظہر
اندھیرا ہو رہا تھا میں نے روکا
اظہر عباس
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 14204
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 14204 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 14204
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply