Today ePaper
Rahbar e Kisan International

“غلام احمد بلور، پشاور کی سیاست میں ایک ناقابلِ فراموش عہد

Articles , Snippets , / Friday, January 30th, 2026

rki.news

تحریر: طارق خان یوسفزئی

“غلام احمد بلور، پشاور کی سیاست میں ایک ناقابلِ فراموش عہد”

دانشور کہتے ہیں کہ صدیوں میں، لاکھوں لوگوں میں سے کوئی ایک سچا اور حقیقی رہنما پیدا ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے پشتون قوم پر خاص کرم کیا ہے کہ ایک ہی صدی میں اسے باچا خان بابا جیسے عظیم رہنما عطا کیے۔ اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی حاجی غلام احمد بلور بھی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم، اصولوں اور جمہوریت کے لیے وقف کر دی ہے ۔حاجی غلام احمد بلور نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان اور عالمی سطح پر جمہوری سیاست کا ایک معروف اور باوقار نام ہیں۔ پشاور کی سیاسی تاریخ میں اگر قربانی، استقامت اور مسلسل جدوجہد کی کوئی روشن مثال موجود ہے تو وہ بلور خاندان ہے، اور اس تاریخ کی مرکزی شخصیت حاجی غلام احمد بلور ہیں۔حاجی غلام احمد بلور 25 دسمبر 1939 کو پشاور کے خداآباد علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور پھر عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا، جہاں بہت جلد پشاور کی سیاست میں ایک پہچانا ہوا نام بن گئے۔حاجی غلام احمد بلور پہلی مرتبہ 1965 میں اس وقت سیاسی منظرنامے پر ابھرے جب انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک فوجی آمر کے خلاف جمہوریت کی علامت کھڑی تھی، اور غلام احمد بلور نے اسی دور میں جمہوری اقدار سے اپنی وابستگی ثابت کر دی۔ 1970 میں وہ کالا باغ ڈیم کے سخت مخالفین میں شامل ہوئے اور امن پسند پشتون رہنما باچا خان بابا کے قریبی ساتھی بن گئے۔ نیشنل عوامی پارٹی (جو بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کہلائی) میں شمولیت کے بعد انہوں نے قید و بند کی سختیاں برداشت کیں، مگر اپنے نظریے اور راستے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔1973 سے 1983 تک کا عرصہ غلام احمد بلور اور ان کے خاندان کے لیے کٹھن آزمائشوں سے بھرپور رہا۔ بار بار گرفتاریاں، جیل کی سزائیں، بلور ہاؤس کو خالی کروانا اور خاندانی کاروبار کی تباہی—یہ سب وہ قیمت تھی جو بلور خاندان نے اپنے نظریے کی خاطر جرات کے ساتھ ادا کی۔ چاہے حیدرآباد سازش کیس میں دو مرتبہ قید ہو یا ہری پور اور دیگر جیلوں میں نظر بندی، غلام احمد بلور ہر مرحلے پر ثابت قدم رہے۔بلور ہاؤس محض مشکلات سے گھرا ہوا ایک گھر نہیں تھا بلکہ پشاور کی سیاسی تاریخ کی ایک زندہ علامت رہا ہے۔ یہ گھر اہم سیاسی فیصلوں، ملاقاتوں اور جدوجہد کا مرکز رہا۔ اگر آج یہ گھر خالی یا منہدم ہو جائے تو یہ صرف ایک عمارت کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ پشاور کی سیاست کے ایک اہم باب کا بند ہو جانا ہوگا۔پارلیمانی سیاست میں حاجی غلام احمد بلور کا سفر طویل اور مختلف ادوار پر مشتمل رہا۔ 1975 میں وہ پہلی مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے، پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اور تین مرتبہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔ پشاور کے حلقہ این اے ون میں ان کے انتخابی معرکے ملکی سیاسی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ چاہے 1990 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شکست دینا ہو یا 1997 میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنا، غلام احمد بلور ہمیشہ ایک نڈر اور توانا سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
یہ سفر صرف سیاسی کامیابیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ قربانیوں سے بھی لبریز رہا۔ 1997 کے انتخابات میں ان کے بیٹے شبیر احمد بلور کی شہادت، 2012 میں بھائی بشیر احمد بلور اور 2018 میں بھتیجے ہارون بلور کی شہادت نے اس خاندان کو ناقابلِ فراموش صدمات سے دوچار کیا، مگر اس کے باوجود غلام احمد بلور نے سیاست ترک نہیں کی۔ 2013 میں ان پر خودکش حملہ بھی ہوا، لیکن وہ محفوظ رہے اور اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھی۔انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد یا اقتدار کے حصول کے بجائے نظریے، اصولوں اور عوامی خدمت سے جوڑ کر رکھا۔ ان کی سیاسی زندگی قربانی، جدوجہد اور مضبوط مؤقف کی واضح مثال ہے۔ حاجی غلام احمد بلور کی سیاست عوامی نیشنل پارٹی کے اس نظریے کی ترجمان رہی ہے جو عدم تشدد، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور اقوام کے حقوق پر یقین رکھتی ہے۔ سخت حالات، قید و بند اور دھمکیوں کے باوجود وہ اپنی جماعت، نظریے اور عوام کے ساتھ ڈٹے رہے۔حاجی غلام احمد بلور باچا خان اور خان عبدالولی خان کے فکر کے عملی نمائندہ ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہوتی ہے، اور حاجی غلام احمد بلور نے اپنے عملی زندگی میں اس فکر کو ثابت کیا۔
اگرچہ حاجی غلام احمد بلور نے اب پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، لیکن ان کا سیاسی ورثہ، جدوجہد اور اصول آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی رہنمائی آج بھی عوامی نیشنل پارٹی اور باشعور سیاست کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اقتدار کے بجائے نظریے کو ترجیح دی۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اصولی سیاست آج بھی ممکن ہے، بشرطیکہ نیت صاف اور مقصد عوامی خدمت ہو۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین مثال اور قومی سیاست کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔آج حاجی غلام احمد بلور بابا نے بلور ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کی عمر کا بھی خیال نہیں رکھا اور ان کی جیتی ہوئی نشست پر کسی اور کے فائدے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں نے اس ملک اور قوم کے لیے 55 سال سیاست کی، مگر اسٹیبلشمنٹ کو ایسے لوگ نہیں چاہییں جو نہ بکتے ہوں اور نہ جھکتے ہوں، اسی لیے مجھے تین مرتبہ شکست دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اگرچہ جنگ میں بھارت کو شکست دے چکا ہے، مگر معاشی میدان میں پیچھے رہ گیا ہے۔ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو فضول قرار دیتے ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ اٹھارہویں ترمیم کی اہمیت قراردادِ مقاصد جیسی ہے، اور اگر اس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ملک کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی نشست پر کون الیکشن لڑے گا، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی، “میں ایک مضبوط پارٹی چھوڑ کر جا رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ پشاور چھوڑ رہے ہیں، مگر دفن اسی مٹی میں ہوں گے۔ انہوں نے پشاور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے لوگوں نے انہیں عزت دی، ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور پانچ مرتبہ اسمبلی تک پہنچایا۔ “پشاور میرا گھر ہے اور پشاور کے لوگ میرے اپنے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ انتخابی سیاست سے دستبردار ہو رہے ہیں، مگر سیاست نہیں چھوڑ رہے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اب پشاور میں اکیلے رہنا ممکن نہیں، اس لیے وہ اسلام آباد منتقل ہو رہے ہیں۔حاجی غلام احمد بلور صاحب نے اپنی پوری زندگی اصولوں، جرات اور قربانی کی سیاست کی۔ وہ باچا خان اور ولی خان کے فکر کے سچے امین ہیں اور ہمیشہ حق کے راستے پر قائم رہے۔ اگرچہ پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی ان کا ذاتی فیصلہ ہے، مگر عوام کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی۔ ہم ان کی جدوجہد، دیانت داری اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International