Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غم هجران کی لوری کوئی ہم سفر نہیں . مصنفه : محترمه تمثيله لطيف صاحبه

Articles , / Friday, January 23rd, 2026

rki.news

تحریر صالح اچھا

شاعر وادیب کسی بھی معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے اُس کی یہ جس معاشرے کی دین نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، لہذا یہ کہنا کہ وقت حالات یا معاشرے نے شاعر یا ادیب بنا دیا میرے نزدیک غلط ہے، البتہ کوئی بھی فنکار اپنے فن کے اظہار ابلاغ اور تحقیق کے لئے الفاظ اور میٹیمر میں اپنے ماحول معاشرے اور دیگر ماڈی ذرائع سے حاصل کرتا ہے۔۔! بر صغیر کا اپنا ایک مخصوص تہذیبی اور معاشرتی ماحول ہے، لہذا ہماری شاعری ہماری اس تہذیب اور معاشرے کی آئینہ دار ہے، ایک دور تھا کہ ہماری بیشتر شاعری حسن و عشق، ہجر و وصال اور قصیدہ و بجو پر حیط تھی پھر بات فلسفے، تصوف اور حکمت تک پہنچی اس کے بعد سماجی اور سیاسی شعور نے جنم لیا اور آج کل مزاحمتی شاعری رواج پا رہی ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں عورت کی آواز ہمیشہ کسی نہ کسی سطح پر دبائی گئی یا محدود پیمانے پر سنی گئی ہے۔ تا ہم بیسویں صدی کے وسط سے یہ آواز نہ صرف بلند ہوئی بلکہ اپنی داخلی کرب ہنرمی، حساسیت اور فکری صلابت کے ساتھ ادبی منظر نامے کا ایک روشن حوالہ
بن گئی ۔ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زہرہ نگاہ اور ادا جعفری کے بعد اب نئی نسل کی شاعرات نے اپنے احساسات کو نہ صرف نسوانی زاویے سے بلکہ انسانی تجربے کی گہرائی سے بیان کیا ہے۔ انہی شاعرات میں ہمارے عہد کی شاعرہ تمثیلہ لطیف در فکر پر دستک دیتی ہے تو اس میں منطق و حکمت کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں اور یہ رنگ تمثیلہ کے ماحول اُن کی تربیت اور مزاج کا عکس ہے، تمثیلہ کی شاعری ایک منفر دشناخت رکھتی ہے۔ ان کا اولین شعری مجموعہ کوئی ہم سفر نہیں اردو غزل اور نثری نظم کی روایت میں ایک ایسی نرم لیکن گہری آواز کی نمائندگی کرتا ہے جو عشق ، جدائی، تنہائی اور وجودی تجربے کو نسائی شعور کے آئینے میں منعکس کرتی ہے۔ تمثیلہ کی شاعری مجموعی طور پر ان کے ذاتی کرب، غم ہجراں ( جدائی کا غم ) ، اور دروں بینی کا اظہار ہے۔ ناقدین نے ان کے کلام کو سراہتے ہوئے ان کی شخصیت اور اسلوب کی چند نمایاں خصوصیات کا ذکر کیا ہے:۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے تمثیلہ لطیف کو غم ہجراں کی شاعرہ قرار دیا ہے۔ ان کی شاعری در دہجراں اور غم دل کی داستان ہے، جس میں شاعرہ غم جاناں کے زخموں سے چور اور یادِ ماضی کے زندان میں محصور نظر آتی ہیں۔ ان کے کلام میں خواب، آنسو، حسرت ، غم ، اور تنہائی جیسے الفاظ کی کثرت اس درونی درد کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا شعری اسلوب
نہایت سادہ، سلیس ، اور جذبات سے بھر پور ہے۔ وہ مشکل پسندی (ادق پسندی) سے دور رہ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہیں“۔ ڈاکٹر مقصود جعفری کے علاوہ محترمہ معظمہ نقوی انہیں ” کومل لفظوں کی شاعرہ “ کہتی ہیں، آپ فرماتی ہیں اگر چہ اسلوب میں روایت کار رنگ اور آہ وزاری کا آہنگ نمایاں ہے ، ان کے احساسات میں شدت اور افکار میں ندرت وجدت پائی جاتی ہے۔ یہ سادگی کے باوجود قاری کو اپنے اندر گم ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ اور خاکسار نے ان کی شاعری کو غم ہجراں کی لوری قرار دیا ہے۔۔!!
تمثيله لطیف کا فکری و جذباتی پس منظر
تمثیلہ لطیف کا تعلق راولپنڈی سے ہے مگر ان کی شاعری کسی مخصوص جغرافیے کی مرہون منت نہیں۔ وہ داخلی دنیا کی مسافر ہیں۔ ان کے اشعار میں جو غم ہجراں ہے، وہ ذاتی ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی بھی ہے۔ ان کے ہاں عشق صرف ایک رومانوی تجر بہ نہیں بلکہ زندگی کے بے معنویت سے مقابلے کا استعارہ بن جاتا ہے، ان کی شاعری میں دیکھ، جدائی، وقت کی بے رحمی اور سماجی احساس تنہائی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ وہ خود کہتی ہیں:
میرے ہمدم ترے سوا مجھ سے موسم گل ہوا خفا مجھ سے
زندگی شیخ بن گئی میری در دایسے اُلجھ پڑا مجھ سے
یہ اشعار بتاتے ہیں کہ شاعرہ کا دکھ فردی ہونے کے باوجود ایک وسیع انسانی تجربے کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے اندھیروں میں روشنی ڈھونڈتی ہیں، کوئی ہم سفر نہیں، تمثیلہ لطیف کا پہلا مجموعہ ہے، جو اپنے لہجے کی سادگی اور جذبے کی شدت کے باعث دل پر نقش چھوڑ جاتا ہے، یہ کتاب ایک عورت کے اندرونی کرب کی داستان ہے جو محبت کے راستے پر اکیلی چل رہی ہے۔ کتاب کا عنوان خود بتاتا ہے کہ شاعرہ نے زندگی کے طویل سفر میں رفاقت کی کمی کو مرکزی تجر بہ بنایا ہے۔ ان کے یہاں تنہائی محض عدم رفاقت نہیں بلکہ ایک تخلیقی کیفیت ہے جس سے معنی جنم لیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: سخنی غم حیات کی سہتا نہیں کوئی میری طرح فراق میں روتا نہیں کوئی یہ اشعار میر تقی میر کی روایت سے جڑے ہوئے ہیں جہاں ہم جاناں اور غم دنیا ایک دوسرے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ تمثیلہ لطیف کے یہاں بھی یہی سادگی دکھائی دیتی ہے ،مگر وہ اس سادگی کو نسائی احساس کے قالب میں ڈھال دیتی ہیں۔ ان کی شاعری میں غم کی گونج ہے مگر اس میں نوحہ نہیں ، ایک وقار اور سکوت ہے جو داخلی روشنی کا پتہ دیتا ہے۔ اسلوب اور زبان
تمثیلہ لطیف کی شاعری میں سادگی، روانی اور جذبات کی شدت نمایاں ہے، زبان میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج
ملتا ہے۔ قافیہ ور دیف کی ترتیب میں فنی مہارت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزلیں دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، جو قاری کو براہ راست متاثر کرتی ہیں
موضوعات
مجموعہ میں فراق ، تنہائی یا د، وفا ، وقت ، زندگی کے مسائل اور روحانی تجربات جیسے موضوعات کو شاعرانہ انداز میں برتا گیا ہے، کئی غزلیں عصری شعور کی آئینہ دار ہیں، جن میں آج کے انسان کی بے بسی اور جذباتی الجھنوں کو بیان کیا گیا ہے۔ فنی پهلو
بحر اور وزن کا استعمال زیادہ تر غزلوں میں موزوں ہے ، اگر چہ چند مقامات پر تقطیع کی لغزشیں بھی نظر آتی ہیں۔ تشبیہات و استعارات کا استعمال دلکش ہے ، مگر کہیں کہیں تکرار کی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے۔
آئے تمثیلہ کے چند منتخب اشعار کی قرآت کرتے ہیں
پوچھتا ہے ترا پتہ اکثر
شب فرقت میں اک دیا مجھ سے
یاد آئے تو ہومگر ہمدم پہلی شدت سی وہ کہاں ہے اب
ہر ایک دشت کی اب مجھ کو خاک چھانی ہے تمہارے عشق میں کرنی ہے انتہا میں نے تم جس جگہ پہ چھوڑ کے مجھ کو جدا ہوئے اب بھی اُسی مقام پہ رکھے ہیں میرے خواب جس قدر بھی میں خواب دیکھتی ہوں شب سے نکلے گلاب دیکھتی ہوں ہم تری یاد میں یوں روتے ہیں فصل اک آنسوؤں کی بوتے ہیں
ان اشعار میں فراق کی شدت اور یادوں کی بارش کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، وفا کے دھوکے اور دوستی کی حقیقت کو بے باکی سے بیان کرتے ہوئے تمثیلہ نے سچائی کو تسلیم کرنے کی جرات دکھائی ہے۔ وقت کی بے رحمی اور زندگی کی نا پائیداری کو اس خوبی سے اجاگر کیا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کوئی ہم سفر نہیں کی شاعری میں جس کرب بے چینی’ تناؤم الجھن اور لہجے کی ناہمواری کا احساس ہوتا ہے، وہ میری دانست میں ان کی شخصی اور شعری مزاج کے اساسی پہلو ہیں اور ان کی جڑیں ماحول حالات اور خود اپنی ذات سے ان کے مستقل غیر مفاہمانہ رویے میں تلاش کی جاسکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ روایت سے ان کی بغاوت ہو یا نئے تجربات کی جسارت ان کی شاعری نعرہ زنی اور نقالی دونوں سطحیت سے بڑی حد تک محفوظ رہی، اپنے لہجے کی شناخت اور پر داخت میں انہیں زیادہ آسانی اس لیے حاصل رہی کہ وہ اداکاری کی مشقت پر مجبور نہیں ہوئیں، نئی شاعری اور نئے شاعر کو سمجھنے
کا ایک آسان طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے علائم اور امیجر کو وجودی فکر کے تصورات اور تلازمات کا لباس پہنا دیجئے۔ وجود کی اولیت انفرادی آزادی کی تڑپ لحظہ لحظہ جینا ذات کی شکست وریخت اقدار کا انکار یاس محرومی پر اصرار احساس جبر وغیرہ ، یہ کلیدی اشارے اپنی تاویلات میں نئے شاعر کو نیا اور ایک حد تک بڑا بنانے میں بڑی مددکرتے ہیں ،مزید چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔۔۔ ڈھونڈا ہے تجھ کو میں نے کچھ اپنے جنون سے میں اُس طرف گئی ہوں جدھر راستہ گیا اپنا شباب ڈال دیا جس کی گود میں اب سوچتی ہوں اس نے بھلا مجھ کو کیا دیا مرے وجود کے کھلتے ہوئے گلابوں کو ہوائے دست ستم گر میں لکھ دیا اُس نے اختتامی کلمات
کوئی ہم سفر نہیں، ایک دل سے نکلی ہوئی شاعری کا مظہر ہے، جو قاری کو جذباتی سطح پر متاثر کرتی ہے۔ تمثیلہ لطیف صاحبہ نے اردو غزل کی روایت میں اپنا منفر درنگ شامل کیا ہے۔ ان کی شاعری میں درد، سچائی ، اور روحانیت کی آمیزش
ہے، جو انہیں ایک قابلِ قدر شاعرہ کے طور پر سامنے لاتی ہے، بلاشبہ شعری مجموعہ ” کوئی ہم سفر نہیں، میں تمثیلہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر انسان نیک نیتی خلوص اور جذبہ سے محنت کرے تو اُس کو اس کا صلہ ضرور مانتا ہے، تمثیلہ کی شاعری اپنے تہذیبی پس منظر میں شعری روایات، تجربوں کی سچائی اور حسن بیان کی آمیزش کے ساتھ شعری افق پر جلوہ گر ہے۔ !!


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International