Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غیر معیاری پانی: صحت عامہ کے لیے خطرہ

Articles , Snippets , / Wednesday, March 19th, 2025

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے جس کے نتیجے میں بوتل بند پانی (منرل واٹر) کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ تاہم حالیہ تحقیق میں ملک کے 27 منرل واٹر برانڈز کے مضرِ صحت ہونے کے انکشاف نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (PCRWR) کی رپورٹ کے مطابق، ان برانڈز میں بعض کے پانی میں سوڈیم، آرسینک اور پوٹاشیم کی مقدار مقررہ حد سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کچھ میں جراثیم پائے گئے ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں بوتل بند پانی کے کاروبار کی بنیاد 1990 کی دہائی میں رکھی گئی جب صاف پانی کی قلت کے باعث شہری علاقوں میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ صنعت ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو گئی۔ تاہم اس صنعت کے لیے معیار اور قوانین کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) نے بوتل بند پانی کے معیار کے لیے ضوابط تو بنائے، لیکن ان کا نفاذ ایک پیچیدہ مسئلہ بنا رہا۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غیر معیاری بوتل بند پانی پینے سے دل، بلڈ پریشر اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آرسینک جیسے زہریلے عناصر کا زیادہ مقدار میں استعمال اعصابی نظام پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ اور دیگر متعدی امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔
وفاقی حکومت نے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت PCRWR کو بوتل بند پانی کے برانڈز کی سہ ماہی جانچ کا اختیار دیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو معیاری پانی فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن جب تک حکومت سخت قوانین اور موثر مانیٹرنگ سسٹم نافذ نہیں کرتی مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔
بوتل بند پانی کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے فیکٹریوں میں سخت معائنہ اور غیر معیاری برانڈز کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔
عوام کو اس بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے کہ کون سے برانڈز محفوظ ہیں اور کن سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حکومتی سطح پر پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو صاف پانی خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
بوتل بند پانی کا استعمال شہری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن اس کے معیار پر سمجھوتہ صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اگر حکومت غیر معیاری پانی کی فروخت کے خلاف سخت اقدامات نہیں کرتی تو عوام کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف سخت قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے بلکہ عوام کو بھی اس بارے میں مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکیں۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International