rki.news
تحریر : طارق محمود
میرج کنسلٹنٹ
ایکسپرٹ میرج بیورو
نیو یارک جیسے عالمی شہر کے میئر کا قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانا بظاہر ایک تاریخی، خوش آئند اور علامتی واقعہ ہے۔ مسلم دنیا میں اسے نمائندگی، قبولیت اور مذہبی آزادی کی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ ہاتھ کس مقدس کتاب پر رکھا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار، نظام اور فیصلے کس فکر کے تابع ہوں گے۔
یہ واقعہ عصرِ حاضر کے اس گہرے تضاد کو پوری شدت سے بے نقاب کرتا ہے جس میں مذہبی علامتیں تو قابلِ قبول ہیں، مگر مذہب بطور اجتماعی نظامِ حیات ناقابلِ برداشت۔ امریکی آئینی نظام مذہب کو ذاتی آزادی کے دائرے میں تو جگہ دیتا ہے، مگر اسے ریاست، معیشت اور عالمی سیاست کے فیصلوں سے مکمل طور پر الگ رکھتا ہے۔ یوں قرآن پر حلف بھی درحقیقت اسی آئینی و سرمایہ دارانہ نظام سے غیر مشروط وفاداری کا اعلان بن جاتا ہے۔
امریکی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے دنیا کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ علامت کافی ہے، نظام کی بات خطرناک ہے۔ مسلمان ہو یا عیسائی، یہودی ہو یا ہندو—جب تک وہ منڈی، طاقت اور سامراجی مفادات کے تابع رہیں، سب قابلِ قبول ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عدلِ اجتماعی، سود سے پاک معیشت، اخلاقی سیاست اور عالمی استحصال کے خاتمے کی بات کی جائے۔
نیو یارک کے میئر کا قرآن پر حلف دراصل اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ آج کا عالمی نظام مذہب سے نہیں، مذہب کے نظام بننے سے خوفزدہ ہے۔ اسی لیے فلسطین پر بم برسانے والا امریکہ مذہبی آزادی کا علمبردار بھی ہے، عراق اور افغانستان کو تباہ کرنے والا انسانی حقوق کا محافظ بھی، اور عالمی مالیاتی غلامی مسلط کرنے والا جمہوریت کا پیامبر بھی۔
یہ وہی نظام ہے جو مسلم دنیا میں ایسی قیادتیں پیدا کرتا ہے جو قرآن ہاتھ میں رکھتی ہیں، مگر پالیسیاں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور واشنگٹن کی خواہشات کے مطابق بناتی ہیں۔ یہی جھوٹی، مصنوعی اور آلہ کار قیادتیں ہیں جو نوجوانوں کو جذباتی کامیابیوں میں الجھا کر اصل سوالات سے دور رکھتی ہیں۔
مسلم نوجوانوں کے لیے نیو یارک کے اس واقعے میں خوشی سے زیادہ سوچنے کا مقام ہے۔ یہ لمحہ اس شعور کا متقاضی ہے کہ اصل جنگ نمائندگی کی نہیں، نظام کی ہے۔ اگر قرآن واقعی رہنمائی کی کتاب ہے تو وہ صرف حلف کی زینت نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور معاشرت کے فیصلوں میں بھی جھلکنا چاہیے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کو بطور اجتماعی نظام دوبارہ سمجھا جائے—ایک ایسا انسانیت دوست نظام جو سرمایہ دارانہ استحصال، سامراجی جنگوں اور اخلاق سے عاری سیاست کا متبادل پیش کر سکے۔ یہ کام نہ نعروں سے ہو گا، نہ علامتوں سے، بلکہ مدبرانہ سیاسی شعور، فکری خود مختاری اور عالمی طاقتوں کی حقیقت کو سمجھنے سے ہو گا۔
جس دن مسلم دنیا کے نوجوان یہ فرق پہچان لیں گے کہ قرآن پر ہاتھ رکھنا اور قرآن کے مطابق نظام چلانا دو الگ باتیں ہیں، اس دن نہ صرف نیو یارک کے حلف کا مفہوم واضح ہو جائے گا بلکہ وہ اپنی نام نہاد قیادتوں کی حقیقت بھی پہچان لیں گے۔
اور شاید اسی دن قرآن دوبارہ حلف کی کتاب سے نکل کر انسانیت کے لیے نظام کی کتاب بن سکے گا۔
Leave a Reply