Today ePaper
Rahbar e Kisan International

مارچ 1924.3 خلافت عثمانیہ کا خاتمہ, مسلم دنیا کا تاریخ ساز موڑ

Articles , Snippets , / Thursday, April 3rd, 2025

 

rki.news

تحریر: احسن انصاری

3 مارچ 1924 مسلم تاریخ کے ایک اہم تاریخ ساز موڑ اور غم و اندوز لمحہ ہے، جب خلافت عثمانیہ کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔ یہ واقعہ صرف ایک چھ صدی پرانی سلطنت کے خاتمے کا اعلان نہیں تھا بلکہ مسلم دنیا کے 63 آزاد ممالک میں بٹ جانے کا سبب بھی بنا۔ خلافت عثمانیہ کے زوال کو آج بھی مسلمان گہرے دکھ اور افسوس کے ساتھ یاد کرتے ہیں، کیونکہ یہ واقعہ اسلامی وحدت کے خاتمے اور مسلم دنیا میں سیاسی، معاشی اور سماجی عدم استحکام کی ایک نئی لہر کے آغاز کی علامت تھا۔سلطنت عثمانیہ، جو 13ویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی، ایک طاقتور اسلامی ریاست کے طور پر ابھری اور تین براعظموں—ایشیا، یورپ، اور افریقہ—تک پھیل گئی۔ 600 سال سے زیادہ عرصے تک، یہ سلطنت عسکری قوت، سیاسی استحکام، اور معاشی خوشحالی فراہم کرتی رہی۔ سب سے بڑھ کر، اس نے خلافت کو برقرار رکھا، جو مسلم دنیا کی روحانی اور سیاسی قیادت کا مرکز تھا۔ عثمانی دور میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا گیا، علماء کی سرپرستی کی گئی، اور فن و ثقافت کو فروغ ملا۔ اس سلطنت نے اپنے زیرِ سایہ بسنے والے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا اور اسلامی روایات و اداروں کی حفاظت کی۔ خلافت عثمانیہ صرف ایک سیاسی طاقت نہیں بلکہ مسلمانوں کی وحدت اور اجتماعی شناخت کی علامت بھی تھی۔سلطنت عثمانیہ کے زوال کا آغاز ایک طویل عرصے سے ہو چکا تھا، جو داخلی بدعنوانی، فوجی شکستوں، اور بڑھتی ہوئی قوم پرستی جیسی وجوہات کی بنا پر جاری تھا۔ مگر فیصلہ کن ضرب پہلی جنگ عظیم کے بعد لگی، جب سلطنت نے جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر اتحادی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور شکست کھائی۔ 1920 میں معاہدہ سیور اور 1923 میں معاہدہ لوزان کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کے علاقے تقسیم کر دیے گئے۔ برطانیہ اور فرانس نے عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ مصطفی کمال اتاترک نے ترکی میں خلافت کو باضابطہ طور پر 3 مارچ 1924 کو ختم کر کے ایک سیکولر ریاست قائم کر دی۔ یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بے حد غم انگیز تھا کیونکہ اس کا مطلب ایک مرکزی اسلامی قیادت کے صدیوں پرانے ادارے کا خاتمہ تھا۔

سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہونے کے نتیجے میں 63 مسلم اکثریتی ممالک وجود میں آئے، جن میں سے بیشتر مغربی اثر و رسوخ یا براہ راست نوآبادیاتی حکمرانی کے زیرِ سایہ آ گئے۔ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا میں اتحاد کی کمی، تنازعات اور سیاسی عدم استحکام بڑھتے گئے، جن کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ نئی آزاد ہونے والی ریاستیں مؤثر طرزِ حکمرانی قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہوئیں، جس کی وجہ سے اندرونی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کا دروازہ کھل گیا۔ اسلامی قیادت کے فقدان نے مسلمانوں میں فکری اور نظریاتی اختلافات کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تصادم بھی پیدا ہوئے۔عثمانی خلافت کے خاتمے نے نہ صرف مسلم وحدت کو کمزور کیا بلکہ عالمی سیاسی منظرنامے کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ خلافت کے زوال کے بعد، بیشتر مسلم ممالک مغربی اثر و رسوخ کے تابع ہو گئے اور سیاسی و معاشی طور پر کمزور ہوتے چلے گئے۔ نوآبادیاتی طاقتوں نے اسلامی دنیا میں قیادت کے فقدان سے فائدہ اٹھایا اور مزید انتشار اور تقسیم پیدا کی۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کو علیحدہ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے نتیجے میں سرحدی تنازعات اور طاقت کے حصول کی جدوجہد نے جنم لیا، جن میں سے کچھ تنازعات آج بھی جاری ہیں۔ فلسطین-اسرائیل تنازع، عراق اور شام میں عدم استحکام، اور مختلف خطوں میں علاقائی خودمختاری کے مسائل سب سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ ہیں۔ اس کے علاوہ، عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا میں علمی اور ثقافتی زوال بھی آیا۔ ایک ایسی سلطنت جو کبھی علم و ہنر کا گہوارہ تھی، اس کے زوال کے بعد مسلم معاشروں میں جمود اور پسماندگی نے جنم لیا۔

عثمانی خلافت کا خاتمہ مسلم تاریخ کا ایک المناک باب ہے، مگر یہ ہمیں اتحاد، مؤثر قیادت، اور خودانحصاری کی اہمیت کا سبق بھی دیتا ہے۔ آج کے دور میں، جب مسلم دنیا کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں، ہمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ممالک کو درپیش سیاسی عدم استحکام، معاشی تفاوت، اور بیرونی دباؤ جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک منظم اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ عثمانی خلافت کے زوال سے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ حکمتِ عملی، خود انحصاری، اور باہمی تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

مسلم دنیا میں قیادت کے فقدان نے معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود، کئی مسلم اکثریتی ممالک غربت، کرپشن، اور پسماندگی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے درمیان ہم آہنگی اور اجتماعی کوششوں کی کمی ہے۔ آگے بڑھنے کا ایک ممکنہ راستہ مسلم ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون ہے، جیسا کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقتصادی اتحاد کے ذریعے مشترکہ ترقی کی کوششیں۔ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا، اور سفارتی اتحاد کو مضبوط کرنا مسلم دنیا کو دوبارہ عالمی سطح پر ایک مؤثر طاقت بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ثقافتی اور علمی احیاء بھی ناگزیر ہے تاکہ اسلامی تہذیب کے عظیم ورثے کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ تحقیق، تعلیم، اور جدت طرازی کو فروغ دینا ماضی کی عظمت کو حال میں بحال کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔

جب ہم 3 مارچ 1924 کے واقعات کو یاد کرتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم غور کریں کہ مسلم دنیا کو کس طرح زیادہ مضبوط اور متحد بنایا جا سکتا ہے۔ اسلامی اتحاد اور خوشحالی کا خواب آج بھی حقیقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اجتماعی کوششیں کریں، باہمی احترام کا مظاہرہ کریں، اور عدل و تعاون کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ اگرچہ ایک واحد خلافت کی بحالی موجودہ سیاسی حالات میں ممکن نہیں، لیکن مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی، اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینا ایک مضبوط اور خودمختار اسلامی دنیا کے قیام کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ آج ہمیں تاریخ سے سبق سیکھ کر ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کرنی ہوگی جہاں مسلم دنیا اتحاد، ترقی، اور استحکام کی علامت بنے۔خلافت عثمانیہ کا زوال بلاشبہ ایک المناک واقعہ تھا، لیکن یہ ہمارے لیے ایک سبق اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک تحریک بھی ہے، تاکہ ہم ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کریں جہاں مسلم اقوام باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ عالمی معاملات میں اپنا نمایاں کردار ادا کریں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International