تحریر:اشعر عالم
ساحر لدھیانوی ہر عہد میں زندہ رہنے والی برصغیر کی معروف ترین شخصیت ہے۔ ساحر کی غزلیں ہوں، نظمیں ہوں یا کوئی فلمی گیت وہ اصنافِ سخن میں یکتائے کمال نظر آتا ہے۔ساحر لدھیانوی کا نام عبدالحئی تھا۔ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تاریخی اعتبار سے یہ بغاوتوں اور تحریکِ آذادی کے دور تھا۔ اس شورش زدہ دور کی پیدائش نے اس کی حالاتِ زندگی کو بھی شورش زدہ رکھا۔ ایک بڑے جاگیردار کی جائز اولاد ہونے کے باوجود وہ باپ اور خاندان کی محبتوں سے محروم رہا۔۔ یہ اُس کی ذات کی پہلی محرومی نہیں تھی بلکہ مسلسل اور نا ختم ہونے والی محرومیوں کا نقطہٴ آغاز تھا۔ساحر انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نا رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور ہجرت کرگئے۔ساحر نے اپنی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے تھےان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے۔ *اپنے شعری اثاثے میں انہوں نے ’’تلخیاں” ’’پرچھائیاں‘‘،’’ آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘‘ اور گیتوں کا مجموعہ’’ گاتا جائے بنجارہ‘‘جیسی شاعری چھوڑی ہے
ساحرؔ کی شاعری کی ابتدا تو ان کی ذا ت سے ہوئی لیکن جلد ہی کائنات تک پہنچ گئی۔ ان کی سیاسی و انقلابی نظموں کے ساتھ ان کے تحقیقی شعور میں بھی پختگی آتی گئی اور اسلوب و آہنگ نکھرتا و سنورتا گیا۔
ان کے پہلے مجمو عہ کلام’’ تلخیاں‘‘(1944) کی اشاعت سے پہلے ہی،ان کی شاعری نو جوان دلوں کی دھڑ کن بن چکی تھی۔
ساحرؔ کے منفرد میں اسلوب کی ایک صفت نغمگی اور تغزل بھی ہے ۔ نغمگی،موسیقیت اور تغزل کے امتزاج نے ان کی نظموں ، غزلوں اور نغموں میں وہ تاثر کی شدت پیدا کردی ہے کہ قاری و سامع اس میں کھوکر رہ جاتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کی دو علیحیدہ ریاستوں کے وجود میں آتے آتے دنیا بھر میں کیمونزم کی تحریک بھی زور پکڑ چکی تھی۔
شورش زدہ حالات نے اس کی طبیعت میں ایک نیا ہجان پیدا کردیا تھا یہ حالات ساحرؔ کی طبیعت سے یوں موزوں ہوئے کے وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکیں گے۔ اسی وجہ سے وہ راتوں رات ہندوستان واپس آ گئے اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان میں ہی رہے۔
ساحر کی فلمی دنیا کا سفر بہت پرُوقار ہے ایک دور تھا جب شکیل بدایونی، حسرت جے پوری، جانثار اختر،کیفی اعظمی جیسے بلند پایا نغمہ نگارہندوستانی فلم انڈسٹری پر راج کر رہے تھے
اس دور ساحر نے اپنے لازوال گیتوں کے ذریعے ایسا مقام بنایا جو شاید کسی کا خواب ہی ہوسکتا تھا۔ وہ ساحر لدھیانوی سے ساحر اعظم بن چکا تھا
ساحر لدھیانوی نے ساری عمر شادی نہیں کی امرتا پریتم، سدارتھ ملہورہ جیسے نامور خواتین کے ساتھ ساحر کے رومانس کا چرچا رہا مگر اس کا انجام اس خوبصورت موڑ پر ختم ہوا
جس کا ذکر ساحر نے اپنی نظم*خوبصورت موڑ* میں کیا۔ یعنی
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
25؍اکتو بر1980ء کو یہ گاتا جائے بنجارہ
59 سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔۔۔
مگر پھر جلد ہی ہر صدی میں رہنے کے لیئے لوٹ آیا۔۔۔۔
Leave a Reply