ماہِ رمضان پھر اک بار ، مبارک ہو تجھے
صبر اور شکر پہ اصرار مبارک ہو تجھے
پیاس اور بھوک پہ ، اے لختِ جگر فتح تری
اک نئے عزم کا اظہار ، مبارک ہو تجھے
ہو مقدر میں ترے شہرِ مدینے کا سفر
باغِ جنت کا بھی دیدار ، مبارک ہو تجھے
خواب ، روضے کی زیارت کا ہو آنکھوں میں تری
حسنِ تعبیر کا پندار مبارک ہو تجھے
حاضری ہو تری قسمت میں خدا کے گھر کی
اک نہیں ، دو نہیں ، سو بار مبارک ہو
خاتمہ تیرے قبیلے کا ہو ایمان کے ساتھ
کلمۂ حق کا یہ اقرار مبارک ہو تجھے
تجھ کو راس آئیں فضائیں درِ محبوب کی خوب
شاہِ کونین کا دربار ، مبارک ہو تجھے
کاش ، تمثیلہ کو بھی اذنِ سفر مل جائے
اے مرے قافلہ سالار ، مبارک ہو تجھے
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply