rki.news
تمثیلہ لطیف
محمد فہیم معروف ماہرِ تعلیم ہیں۔انہوں نے شاعری کا آغاز 2009 ٕ میں کیا۔اب تک ان کی شاعری کے چھے مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔
محمد فہیم موجودہ عہد کے ایک اہم شاعر ہیں ان کے اشعار کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ انہیں حسن سے والہانہ لگاؤ ہے۔ جس حسین شے پر ان کی نظر پڑی یا جس چیز کو انہوں نے بغور دیکھا اور محسوس کیا اسے اپنی غزل کا موضوع بنا لیا انہوں نے خود کو محض حسن کے مشاہدہ تک ہی محدود رکھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ حسن اور حسن کے بیانات پر مبنی ہے البتہ ان کی حسن پرستی میں بوالہوسی یا ہوسناکی کا شائبہ تک نہیں انہوں نے حسن کو بے شمار زاویوں سے دیکھا اور ان گنت نقطہ ہاۓ نظر سے پرکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں حسن کے ان گنت روپ بے نقاب دکھائی دیتے ہیں ۔
محمد فہیم حسن کے شیدائی ہیں ان کے قدم حسن کو دیکھ دیکھ کر رک جاتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں جو حسن کی انہی ملی جلی کیفیات کا اظہاریہ ہیں۔
حریمِ دل میں تمہیں ہم سدا جگہ دیتے
ہمارے دل سے اگر تم معاملہ کرتے
ہمارے شہر سے اک بار تو گزر جاتا
تیرے نقوش کو ہم اپنا راستہ کرتے
کوئی جگنو یا ستارہ نہ چرا لے اس کو
ہونے لگتا ہے مجھے کیوں یہ گماں شام کے بعد
ان اشعار سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ محمد فہیم حسن کے ایک ایک پہلو سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔نظارۂ حسن سے ان پر ایک خوشی اور سرمستی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور انہیں شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کے بے مثال حسن والے محبوب کو کہیں کوئی جگنو یا ستارہ نہ لے جائے۔
محمد فہیم معاملاتِ عشق کی بجائے تجلیات حسن کا تذکرہ زیادہ شدت سے کرتے ہیں چونکہ ان کا زیادہ تر لگاؤ حسن سے متعلق ہے تو اسی وجہ سے ان کا عاشق بہت متحرک ہے۔ جو زندگی کے ساتھ ایک خاص تعلق جوڑنا چاہتا ہے یہی اس کا مقصد ہے۔
ان کے ہاں عاشق کی شدید ترین خواہش محبوب کا وصل ہے وہ اپنے محبوب سے تمام تر تکلفات مٹا کر وصل کے نشاط انگیز لمحات سے مسرت کشید کرنا چاہتے ہیں۔
محمد فہیم کے ہاں چونکہ زیادہ تر ہجر کو موضوع بنایا گیا اور ہجر کا تعلق الم اور دکھ کے ساتھ وابستہ ہے تو حسن کے بعد ان کی شاعری کا دوسرا اہم پہلو ہجر ہے۔ ہجر کا تعلق دکھ سے ہے اور یہ دکھ اور غم ان کے یہاں انسانی زندگی کا ایک حصہ بن کر آیا ہے۔ محمد فہیم اپنے غم کے اظہار سے اپنے قاری کو پستی کے عالم سے اٹھا کر بلندی کی طرف لے جاتے ہیں وہ غم کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ہم غم کے حسن اور حسنِ بیان سے خود غم کو اس طرح فراموش کر دیتے ہیں جیسے کسی بدنما چیز کی خوبصورت تصویر دیکھ کر ہم اس کی بدنمائی کو بھول جاتے ہیں۔ محمد فہیم کے غم میں قدرے نشاطیہ کیفیت موجود ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان اشعار کو پڑھ کر ہمیں بے بسی یا مجبوری کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے غم میں یاس کی تلخی تو پائی جاتی ہے لیکن یہ غم یاس انگیز نہیں ہے۔ یہ اشعار دیکھیے
سوچ کر میں یہ چراغوں کو بجھا دیتا ہوں
کون آئے گا فہیم اور یہاں شام کے بعد
محمد فہیم کی” شام کے بعد” ردیف والی غزل پڑھ کر فرحت عباس شاہ یاد آجاتے ہیں جن کے یہاں “شام کے بعد” ردیف والی بہت سی غزلیں ہیں جو مختلف قافیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوئی ہیں۔
ایک شعر یہ ہے
تُو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دُکھ
تُو کسی روز میرے گھر میں اُتر شام کے بعد
محمدفہیم کے اشعار دیکھیے :
مجھے وہ چھوڑ کے ہوتا ہے خوش بہت لیکن
مرے بغیر کہاں وہ بھی چین پائے گا
یاد آتا ہے تیرا مجھ سے بچھڑنے کا سماں
دیکھنا مڑ کے وہ ہر گام سے پہلے پہلے
محمد فہیم کی شاعری کا زیادہ تر حصہ ہجر کے اشعار پر مشتمل ہے اور انہوں نے ہجر کے مختلف پہلوؤں کو کمال فنی مہارت سے پیش کیا ہے وہیں محکات نگاری کے بے مثل شاعر ہیں۔ وہ الفاظ کا بہترین چناؤ کر کے ایسی لاجواب تصویریں بناتے ہیں کہ ان کا بنایا گیا ہر منظر زندہ اور جاندار ہوتا ہے۔
محمدفہیم کی شاعری کی یہ بنیادی خوبی ہے کہ وہ قاری کو بھی اپنے تجربات میں شامل کر لیتے ہیں یہ عمیق مشاہدے اور لاجواب اندازِ تخیل کی بدولت ممکن ہوا ہے محمد فہیم کی چہرے سے محکات نگاری کے یہ جاندار نمونے ملاحظہ کیجیے:
ہوا سے دوستی کر لی جہان والوں نے
چراغ خاک انہیں روشنی عطا کرتے
دن ترے بعد کسی طور تو کٹ جاتا ہے
دل اٹھاتا ہے مگر بار گراں شام کے بعد
ہر ایک شاخ ستم پر جہاں گلاب کھلیں
میں اب بھی ایسے چمن زار کا مسافر ہوں
پتھروں سے بچا کر رکھ مجھ کو
آئینہ ہوں چھپا کر رکھ مجھ کو
آرزو چاند ستاروں کی ہے
آسمانوں میں اڑا جاتا ہوں
وہ میرے پیچھے پڑی تھی بلاؤں کی صورت
میں دے کے صدقہ محبت کو ٹال آیا ہوں
محمد فہیم کی شاعری میں مکالمے اور خود کلامی کی بھی صورتیں نظر آتی ہیں وہ ان تیکنیکوں کو شعر میں برجستگی سے استعمال کرتے ہیں یہ شعر دیکھیے:
تو کیا تم اب مری تصویر بھی ہٹا دو گے
میں اس کی میز پہ رکھ کر سوال آیا ہوں
عشق میں درد بھی ہے ساتھ ہے رسوائی بھی
سوچ لینا کسی انجام سے پہلے پہلے
تمہارے حسن کی توصیف اور کیا کرتا
فریبِ حسن کو شعروں میں ڈھال آیا ہوں
محمد فہیم نے صنعت تکرار لفظی کو بھی ہنر مندی سے عمیق مشاہدے کی مدد سے برتا ہے اور کمال کر دیا ہے
تیری نسبت سے ہی برباد ہوا جو بھی ہوا
کیا ہوا میں نہ ہوا میرا مقدر تو ہوا
ہجر میں آپ کے ، نیناں میرے چھم چھم برسے
تشنہ آنکھوں کے مقدر میں سمندر تو ہوا
ہے زخم زخم جگر آنکھ نام نہیں مری
زمانے تُو کیا میرا ضبط آزمائے گا
محمد فہیم کو صنعتوں کے برتنے میں خاص دلچسپی بھی ہے اور وہ بڑی مہارت سے ان کا استعمال کرنا بھی جانتے ہیں ان کی شاعری سے صنعت لف و نشر اور صنعت مراعاۃ النظیر کی یہ شعری مثالیں دیکھیں اور ان کا لطف اٹھائیں
ہوا سے دوستی کر لی جہان والوں نے
چراغ خاک انہیں روشنی عطا کرتے
یوں ہی اٹھتا نہیں سینے سے دھواں شام کے بعد
روز جلتا ہے مرے دل کا مکاں شام کے بعد
گراؤ مت میرے اجڑے غریب خانے کو
کہ میں انہی در و دیوار کا مسافر ہوں
ہر ایک شاخِ ستم پر جہاں گلاب کھلیں
میں بھی ایسے چمن زار کا مسافر ہوں
آرزوؤں کا دیا جب بھی جلایا میں نے
بجھ گیا تیرے درو بام سے پہلے پہلے
محمد فہیم کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جذبات اور احساسات کا خوبصورت اور بے مثال شاعر اپنی بے مثال اور دلفریب شاعری سے اردو شاعری کی اس دنیا میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔
Leave a Reply