rki.news
(تحریر احسن انصاری)
قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی تقریباً 3.5 کروڑ تھی اور اس وقت کُل مدارس کی تعداد صرف 190 تھی۔ آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور مدارس کی تعداد 35 سے 40 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ جہاں آبادی تقریباً 7 گنا بڑھی، وہیں مدارس کی تعداد میں 211 گنا اضافہ ہوا۔ بظاہر، یہ ایک خوش آئند بات معلوم ہوتی ہے کہ دینی تعلیم کے مراکز میں اتنی وسعت پیدا ہوئی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا معاشرتی اور اخلاقی ترقی پر کوئی مثبت اثر پڑا؟
اگر ہم موجودہ معاشرتی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اخلاقی زوال کی ایک المناک تصویر سامنے آتی ہے۔ آج پاکستان میں لاکھوں حفاظِ قرآن، ہزاروں علمائے کرام، مفتیانِ دین، فضلائے مدارس، شیخ الاسلام، شیخ الحدیث اور کروڑوں حاجی موجود ہیں۔ دینی تعلیم کا فروغ اور مذہبی اداروں کی وسعت کے باوجود معاشرہ اخلاقی اعتبار سے روز بروز زوال کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ سچائی اور دیانت داری کا فقدان، کرپشن، دھوکہ دہی، جھوٹ، منافقت، عدم برداشت، فرقہ واریت اور شدت پسندی جیسے مسائل دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا اصل مقصد فرد کی اصلاح اور معاشرے میں عدل و انصاف کو فروغ دینا ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے مدارس کو محض تعلیمی مراکز کے طور پر اپنایا، جہاں علومِ دینیہ کی تدریس تو ہوتی ہے لیکن اخلاق و کردار سازی کا پہلو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
یہ المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی طبقہ اگرچہ تعداد میں بڑھ چکا ہے لیکن اس کا عملی اثر کمزور ہو چکا ہے۔ افراد عبادات میں مشغول تو نظر آتے ہیں، لیکن اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ حج، نماز، روزہ اور دیگر عبادات کا فروغ ضرور ہوا ہے لیکن ان کے اثرات عملی زندگی میں کم دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ دینی تعلیم کو محض رسمی یا روایتی انداز میں پڑھانے کے بجائے اسے عملی اخلاقی تربیت سے کیسے جوڑا جائے؟ مدارس کو جدید سائنسی اور معاشرتی علوم سے ہم آہنگ کرتے ہوئے طلبہ کو بہترین اخلاقی تعلیم دینا ہوگی تاکہ وہ ایک مثالی مسلمان اور اچھے شہری بن سکیں۔ دینِ اسلام محض ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل حسن معاملات میں بہتری اور کردار کی عظمت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک ہم مدارس اور مساجد کو اخلاقی تربیت کا حقیقی مرکز نہیں بنائیں گے، معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔
مدارس کے نصاب میں اخلاقی اور سماجی علوم کو شامل کیا جائے تاکہ طلبہ صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے کردار کی تعمیر بھی ہو۔ مدارس کے اساتذہ کی تربیت میں اخلاقی اور معاشرتی پہلوؤں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ بچوں کو بہتر عملی رہنمائی فراہم کر سکیں۔ دینی اور جدید تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ بھی جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔ عوامی سطح پر اخلاقی تربیت کے لیے مختلف مہمات چلائی جائیں جن میں سچائی، دیانت داری، صبر، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ مدارس کے طلبہ کو سماجی خدمات، فلاحی کاموں اور کمیونٹی سروس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور دروس میں صرف فقہی مسائل پر گفتگو نہ کریں بلکہ لوگوں کو اخلاقیات، حسنِ سلوک اور عملی زندگی میں دین کے اطلاق کے بارے میں بھی رہنمائی دیں۔ جب تک دینی تعلیم کے ساتھ عملی اور اخلاقی تربیت کو بھی شامل نہیں کیا جاتا، معاشرے میں مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو محض عقائد اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک بہترین انسان اور ذمہ دار شہری بنانے پر بھی زور دیتا ہے۔
Leave a Reply