Today ePaper
Rahbar e Kisan International

مرد و زن ایک گاڑی کے پہیے

Articles , / Thursday, April 3rd, 2025

rki.news

تحریر: عشاء ساجد
“مرد و زن ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں”۔
یعنی ایک پوری گاڑی کا انحصار ایک مرد اور ایک عورت پر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً گاڑی چار پہیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ان میں سے بھی اگر ایک پہیہ ناقص ہو تو گاڑی کا چلنا مشکل اور بعض دفعہ تو نا ممکن ہوتا ہے۔
اب مرد اور عورت پر مشتمل ایک گاڑی جس کے سرے سے پہیے ہی دو ہیں اور ان میں سے بھی اگر ایک اپنا کام بخوبی نہیں نبھا رہا تو وہ گاڑی کیسے چلے گی؟؟
کیا یہ بات سوچنے والی نہیں؟
ہمارے معاشرے میں عموماً لڑکیوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ ایک مرد آئے گا تمہاری زندگی میں یعنی شوہر جو تمہیں محبت دے گا ،عزت دے گا ،ایک خوشحال زندگی دے گا۔
شوہر مل گیا، محبت بھی ملی، عزت بھی ملی، جذباتی سہارا بھی ملا لیکن اگر کسی وجہ سے خوشحالی نہیں مل سکی، وقتی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ گیا تو ۔۔۔۔۔؟
تو آپ کیا دیکھتے ہیں اپنے اردگرد؟
کیا عموماً ایسی عورتیں شوہر سے ناخوش نہیں رہتی ہیں؟
بات بات پر گلے شکوے کرتی ہیں یہاں تک کہ شوہر سے بھی بیزار نظر آتی ہیں۔
یہیں سے گاڑی کا ایک پہیہ ناقص ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
یعنی کیا صرف ساری زمہ داریاں شوہر کی ہی ہیں؟
اگر ہم بیٹیوں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ شوہر کے زمہ ہے تمہیں محبت دے، عزت دے، تمہارا ساتھ دے تو یہ کیوں نہیں بتاتے کے ان سب کی ضرورت اس مرد کو بھی پڑے گی، وقت پڑنے پر تم اس سے دامن مت چھڑانا بلکہ اسکے ساتھ کھڑی رہنا حالات کا مقابلہ ساتھ مل کر کرنا۔
اس دو پہیوں والی گاڑی کو چلانا ہے تو شوہر کا ساتھ دینا ہو گا نہ کہ اس سے متنفر ہو کر الگ سے بیٹھ جانا.
عورت فطرتاً جذباتی ہے لیکن ایک بہترین زندگی تحمل مزاجی سے گزاری جاتی ہے۔
تحمل مزاجی کی مشق ہر مرد اور عورت کو کرنی چاہیے اور اسکا بیج تمام والدین کو اپنے بچوں کے ذہنوں میں بونا چاہیے ۔ ایک دوسرے سے نا خوش اور متنفر رہ کر آپ کبھی بھی زندگی کی گاڑی کو خوش اسلوبی سے نہیں گھسیٹ سکتے اور اگر گھسیٹ نہ سکے تو اس گاڑی کا سامان اور مسافر یعنی گھر اور بچے حادثے کا شکار ہو کر رہ جائیں گے.
اس حادثے میں گھر تو بکھرے گا ہی آپکے بچے بھی مختلف ذہنی آزمائشوں کا شکار ہو کر رہ جائیں گے ۔
زندگی کی گاڑی اور اس میں موجود سامان کو سہی سلامت منزل مقصود تک پہچانے کے لیے خود کا حالات کے مطابق ڈھال لینا کہیں سے بھی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ۔
تصویر کا دوسرا رخ کچھ اس طرح کا ہے کہ والدین اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کو یہ سوچ کر بیاہ دیتے ہیں کہ شادی ہو گئی تو ذمہ دار ہو جائیگا ،یعنی پیدا کرنے والے ذمہ دار نہ بنا سکے لیکن بیوی کے ایک دفعہ کہنے پر اسے ذمہ داری کا احساس ہو جائیگا ۔
اور یہاں سے آغاز ہوتا ہے مرد کے پہیے کے ناکارہ ہونے کا۔
اب سے ناکارہ پن دوسرے گھر سے اٹھ کر آنے والی بیٹی کے لیے بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ۔
اگر عورت تمام اچھے برے حالات میں اس مرد کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تو کم از کم اپنے اس بیٹے کے ذہن میں ذمہ داریوں کا احساس لازمی جگائیں،قبل اس سے کہ اسکی زندگی کی گاڑی کسی گہری ڈھلوان کی نذر ہو جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International