Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

منشیات کی لت

Articles , Snippets , / Monday, January 5th, 2026

rki.news

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com

منشیات کی لت بہت ہی خطرناک ہے۔منشیات کسی ایک ملک یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔منشیات کے پھیلاؤ نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔بہت سے افراد جو اس لت کا شکار ہو چکے ہیں،وہ معاشرے میں کسی کام کے نہیں رہے۔ہلکا قسم کا نشہ استعمال کرنے والے تو شاید اپنے آپ کو معاشرے میں کچھ نہ کچھ ایڈجسٹ کر لیتے ہیں،لیکن وہ افراد جو زیادہ بھاری قسم کا نشہ استعمال کرتے ہیں وہ کسی کام کے نہیں رہتے۔آج کل جس طرح دنیا میں جدت پائی جا رہی ہے اسی طرح نشہ آور منشیات کو بھی جدید طریقے سے بنایا جا رہا ہے۔اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں نشہ استعمال ہو رہا ہے اور وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس کا عادی فردجیتے جی مر جاتا ہے۔بہت سے نشے وجود میں آگئے ہیں اور یہ نشے انسانیت کے دشمن ہیں۔سگریٹ استعمال کرنے والے بھی بہت سے خطرات کی زد میں رہتے ہیں،حالانکہ یہ کوئی ظاہری طور پر خطرناک نشہ نہیں لگتا،مگر بہت ہی خطرناک ہے۔سگریٹ استعمال کرنے والا دوسرے افراد کی نسبت زیادہ بیماریوں کا شکار رہتا ہے۔سگریٹ نوشی نہ کرنےوالے کی نسبت سگرٹ استعمال کرنے والا شخص پھیپھڑوں یا دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔جب سگرٹ نوشی مسلسل کی جائے تو بیماریوں کے چانسز زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اس وقت سگریٹ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب چرس یا کسی قسم کا نشہ تمباکو میں شامل کر کے استعمال کیا جائے۔سگریٹ کے علاوہ دیگر کئی قسم کے نشے استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں۔منشیات استعمال کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنا قیمتی سرمایہ نشوں پر ضائع کر دیتا ہے۔حالانکہ وہ سرمایہ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔نشے کی طلب عادی فرد کو بہت ہی بے چین رکھتی ہے اس لیےمنشیات کے حصول کے لیے ایک فرد کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر اکثر نشئی افراد ڈکیتی اوردیگر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہو جاتے ہیں،کیونکہ سرمایہ جائز طریقے سے حاصل نہیں کر پاتے تو ناجائز طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔سگریٹ کے علاوہ حشیش،کوکین،ہیروئن،کرسٹل وغیرہ کئی قسم کے نشے پائے جاتے ہیں۔ہیروئن استعمال کرنے والا فرد دنیا جہاں سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کرسٹل یا دیگر خطرناک نشے بھی انسان کو اپنے مقام سے گرا دیتے ہیں۔وہ فرد جو معاشرے کے لیے ایک بہترین فرد ثابت ہو سکتا تھا لیکن نشے کی وجہ سے وہ معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے۔خطرناک قسم کے کیپسول یا گولیاں بھی عام مل جاتی ہیں حالانکہ ان پر پابندی ہونی چاہیے تھی لیکن دولت کے حصول کے لیے وہ عام فروخت کی جاتی ہیں۔بہت سے میڈیکل سٹورز وہ ادویات بیچ رہے ہوتے ہیں جو نشہ آور ہوتی ہیں۔شیشہ یا کرسٹل کا نشہ تو اعلی سوسائٹی میں عام ہو چکا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے نظرآجاتے ہیں جو شیشہ یا کرسٹل استعمال کررہے ہوتے ہیں۔خواتین اور نوجوان لڑکیاں بھی نشہ کی لت کا شکار ہو جاتی ہیں۔خواتین اور لڑکیاں رقم کے حصول کے لیے غلط حرکات میں بھی ملوث ہو جاتی ہیں،کیونکہ نشہ خریدنے کے لیے ان کو رقم چاہیے ہوتی ہے۔اب تو تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں،حالانکہ درسگاہوں کو ایک تقدس حاصل ہوتا ہے لیکن دولت کے حریص افراد درس گاہوں میں بھی منشیات بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ایسے دماغ نشے کی لت کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں جنہوں نے معاشرے اور ملک و قوم کی خدمت کرنا تھی۔
جس طرح کالم کے آغاز میں لکھا تھا کہ منشیات یانشہ کسی ایک علاقے یا ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔اس وقت دنیا بھر میں تقریبا 36 کروڑ افراد اس خطرناک لت کا شکار ہو چکے ہیں۔کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی نشہ استعمال ہوتاہے اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی منشیات کا استعمال ہوتا ہے۔یہ اور وجہ ہے کہ کم ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ منشیات استعمال ہوتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں کم ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں منشیات کی روک تھام کے لیے سخت قسم کی قوانین موجود ہوتے ہیں اور نشہ کو روکنے کے لیے سنجیدگی بھی اختیار کی جاتی ہے،لیکن کم ترقی یافتہ ممالک میں رشوت اور کرپشن کی وجہ سے منشیات عام فروخت ہوتی ہے۔اگر منشیات آسانی سے دستیاب ہو تو آسانی سے استعمال بھی کی جاتی ہے۔امریکہ جیسے ملک میں بھی منشیات استعمال ہو رہی ہے اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔امریکہ نے ونیز ویلا اور چین پر اکثر اوقات الزام لگائے ہیں کہ وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ونیز ویلاکےصدر نکولس مادورو کو بھی اس لیےیہ الزامات لگاکرحملہ کرکے گرفتار کیا ہے کہ وہ منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔کئی ممالک میں…


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International