صبح کے اجالوں نے
رات سے یہ پوچھا ہے
بول ! تیرے دامن میں
اتنا کیوں اندھیرا ہے
رات نے اٹھا کر سر
وحشتوں کے عالم میں
یوں کہا اجالوں کو
سرد سرد موسم میں
وقت کے لٹیروں نے
سرپھرے سویروں نے
وصل رُت کی راحت کو
مجھ سے میری چاہت کو
جس گھڑی سے چھینا ہے
تب سے میں نے ٹھانا ہے
ساتھ رہنے والوں کو
آدمی کے سایوں کو
قتل کرتی رہتی ہوں
خود بھی مرتی رہتی ہوں
جاؤ دن کے سورج کو
اتنا بس سندیسہ دو
میرا چاند بس مجھ کو
جس سمے بھی لوٹا دو
تب سے رات کی رونق
پھر سے لوٹ آئے گی
چاندنی جواں ہو کر
پھر خوشی منائے گی
جاؤ ! دن کے سورج کو
اتنا بس سندیسہ دو
میرا چاند لوٹا دو
میرا چاند لوٹا دو ۔۔۔۔
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply