rki.news
تحریر: فخرالزمان سرحدی، ہری پور
زندگی ایک مسلسل مکالمے کی مانند ہے، اور میرے کالم نگاری کے سفر میں یہی مکالمہ سب سے اہم ثابت ہوا ہے—قلم، قاری اور استادانہ ذمہ داری کے بیچ کا رشتہ۔ میری سمجھ میں آیا ہے کہ قلم کی زندگی صرف لفظوں سے نہیں، بلکہ قاری کی بیداری، معاشرتی شعور اور استادانہ ذمہ داری سے جڑی ہوتی ہے۔
قلم تب زندہ ہوتا ہے جب قاری حساس، سوال کرنے والا اور سوچنے کا عادی ہو۔ میرے ابتدائی دنوں میں خیال یہ تھا کہ میں صرف اپنے مشاہدات اور تجربات کو قلمبند کر رہا ہوں۔ مگر رفتہ رفتہ یہ احساس ہوا کہ ہر تحریر ایک ذمہ داری بھی ہے—کسی جملے میں امید چھپی ہو سکتی ہے، کسی میں ضمیر کی جھنجھوڑ۔ یہی احساس لکھنے والے کو محتاط، باخبر اور باشعور بناتا ہے۔
ہمارا زمانہ معلومات کی کثرت اور شعور کی کمی کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے رائے دینا آسان بنا دیا ہے، مگر سوچنا مشکل۔ ایسے میں اخبار میں شائع ہونے والا کالم وقتی جذبات نہیں بلکہ ٹھہراؤ، سنجیدگی اور اخلاقی شعور کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میرا کالم شور پیدا نہ کرے، بلکہ سوچ کے چراغ جلاۓ؛ الزام نہ لگائے بلکہ تجزیہ پیش کرے۔
تعلیم اور استاد کے ربط نے اس سفر میں مجھے مزید بصیرت دی۔ استاد اپنے طلبہ کے دل و دماغ میں شعور کے بیج بوتا ہے، بالکل اسی طرح کالم نگار بھی سماج کے ضمیر میں روشنی کے ذرّے پھیلاتا ہے۔ استاد اور کالم نگار دونوں کے لیے صبر، فہم، تحقیق اور اخلاقی شعور لازمی ہیں۔ ایک جملہ طلبہ یا قارئین کی سوچ بدل سکتا ہے، اور یہی لمحہ استادانہ جذبے اور قلم کی ذمہ داری کا حقیقی احساس ہے۔
کالم نگاری نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ سچ ہمیشہ ایک سا نہیں ہوتا۔ ہر مسئلے کے کئی پہلو ہوتے ہیں، اور ایک ذمہ دار کالم نگار وہ ہے جو مختلف زاویوں کو دیکھ کر بات کرے۔ جلد بازی، جذباتیت اور یک طرفہ سوچ قلم کے وقار کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسی لیے میں نے تحریر سے پہلے مطالعہ، غور اور خود احتسابی کو لازم سمجھا۔
قارئین کا ردِعمل اس سفر کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ بعض خطوط اور پیغامات نے مجھے یہ احساس دلایا کہ میرا لکھا محض اخبار کے صفحات تک محدود نہیں رہا، بلکہ کسی کے دل یا ذہن میں جگہ بنا چکا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب استادانہ جذبہ اور کالم نگاری کی ذمہ داری ایک ساتھ روشن ہوتی ہے۔
میری کتابیں “چمن کی فکر” اور “فکرِ سرحدی” اسی فکری مکالمے کا تسلسل ہیں۔ یہ کتابیں دراصل قاری کے ساتھ ایک طویل گفتگو ہیں—ایسی گفتگو جس میں سوال بھی ہیں، تجاویز بھی اور بہتری کی امید بھی۔ یہاں استاد اور کالم نگار دونوں کی مشترکہ ذمہ داری جھلکتی ہے کہ علم اور فکر کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، اتنی ہی روشنی پھیلے گی۔
آخر میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ کالم نگاری، تعلیم اور استادانہ کردار کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب بولنا مشکل اور خاموش رہنا آسان ہو۔ تب قلم، قاری اور استادانہ بصیرت ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور سماج کے لیے حقیقی رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کیونکہ جب قلم زندہ ہو، قاری بیدار ہو اور استادانہ ربط موجود ہو، تب معاشرہ بولنے لگتا ہے، سوچنے لگتا ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پاتا ہے
Leave a Reply