rki.news
کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل
یہ تحریر کرتے ہوے میرے ہاتھ واقعی میں کانپ رہے ہیں کہ میں بستر مرگ پہ ہوں. میں اپنی زندگی کے آخری، جان لیوا اور اذیت ناک ایام کاٹ رہا ہوں. میں جان بلب ہوں، میں جان کنی کے عالم میں ہوں، میری سانسیں اٹک اٹک کے چل رہی ہیں کھانسی کے غوطے مجھے ٹکنے نہیں دیتے میرا پورا وجود ایک دکھتا ہوا ناسو ر بن چکا ہے. آبلہ نما چھالے پورے بدن کو ڈھانپ چکے ہیں, جن میں سے بہتی ہوی پیپ اتنی بدبو دار ہے کہ ایک ایک عام انسان اس کی بو سونگھ کے راہی عدم کو سدھار جاے مگر میں کءی سالوں سے بستر پہ پڑا یہ مکروہ بو سونگھ رہا ہوں, میں ہوں ہی اسی لایق. بچپن میں بزرگ بتاتے تھے کہ گناہگاروں کے لیے اللہ پاک نے ایک جہنم دہکا رکھی ہے, جس میں انھیں پھینک دیا جاے گا, جہاں ان کی چمڑی بار بار جلای جاے گی, انھیں کھولتا ہوا پانی اور پیپ پلای جاے گی اور یہ سزا اور اذیت انھیں بار بار دی جاے گی یہاں تک کہ ان کی توبہ در توبہ اللہ پاک کے دل میں ان کے لیے رحم کا بیج بو دے گی اور وہ معاف کر دییے جایں گے. مگر یہ جنت جہنم تو بہت بعد کے سلسلے ہیں. ہم، میں اور آپ یہ بہ ہوش و حواس جان لیں کہ ہر انسان کو اپنی کرنی, مرنے سے پہلے اس دنیا میں بھی بھرنی پڑتی ہے جو گل آپ نے یا میں نے یا ہم سب نے کھلاے ہوے ہوں ان کے پھل کھانے ہی پڑتے ہیں. ہم تمام انسانوں کو اللہ پاک نے شتر بے مہار کی طرح کھلا چھوڑ کے بھی طنابیں اپنے ہی ہاتھ میں رکھ چھوڑی ہیں اور بلھے شاہ جیسے سادھو، درویش، جیتے جی دنیا تیاگ دینے والے مہاتما بدھ، تیری میری کے رولے سے دور رہنے والے بھی یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ
بلھا کی جاناں میں کون؟
کیا ہے آگہی؟ کیا ہے شعور آگہی؟ اور کیا ہیں رموز آگہی..؟ آگہی اور خودی دو نوں صفات کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے یہ خونی رشتہ دار بلکہ دوپٹہ بدل بہنیں ہیں جو آگہی تک پہنچ گیا اس بےخودی کو بھی پالیا بقول اقبال
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
تو فلسفہ خودی اور فلسفہ آگہی جس نے بھی پالیا اس نے دنیا سے ناتا توڑ لیا، جینے کا سیاپا چھوڑ دیا مگر یہ درویش چہار سو پھیلی ہوئی انے واہ آبادی کا کتنے فیصد ہوں گے یہی کوی ایک دو فیصد،باقی ساری عوام بغیر کسی معاشی و سماجی تفریق کے بغیر کسی مذہب کی تمہید کے بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے صبح سے شام تک ہر طرف ایسے ہاتھ پاوں مارتی پھرتی اور ایسے مال بٹورتی اور سمیٹتی پھرتی ہے جیسے ان کا جینا مرنا یہی ہے جیسے ان کا مقصد حیات یہی ہے. سچ میں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ اینٹ گارے کے بنے مضبوط محل اور چوبارے ادھر ہی کا مال ہیں یہ مال و زر، یہ دولت کے انبارے ادھر ہی کا مال ہیں، یہ مینار ے اور تخت ہزارے ادھر کا ہی مال ہیں یہ
جن تین چیزوں زر، زن اور زمین کی کھینچا تانی میں دنیا لڑ لڑ کے آدھ موی ہوی جاتی ہے، . یہ جو تین
چیزوں کی کشمکش نے دنیا کو میدان جنگ بنا رکھا ہے، مامے کی عدالت کا تو پوچھیے ہی مت صبح سے شام پڑ جاتی ہے مگر یہ مامے کی عدالت، یہ کورٹ کچہری کے شیطانی پھندے نہ ہی سلجھتے ہیں نہ ہی کسی کو جینے دیتے ہیں اور نہ مرنے، بس آپ دھکے کھاتے رہیں، کھاتے رہیں اور آخر کار دھکوں جیسا ہی ایک دھکا بن جایں گے آپ.
وحشت دل تو ذرا کم کم تھی
وحشت دنیا کچھ زیادہ ہے
تو میں آپ سب کو بتا رہا تھا کہ میں اس وقت بستر مرگ پہ ہوں انتہائی تکلیف اور کرب میں ہوں. مجھے نہیں پتا میری جان کہاں اٹکی ہوی ہے میرے کون سے گناہ کا کفارہ ہے، جس کی ادای مشکل ہو گءی ہے ڈاکٹرز پچھلے ایک سال سے مجھے جواب دے چکے ہیں. میری شریک حیات جو کہ حافظہ بھی تھی اور جس نے میرے پہلے سے خراب دماغ اور بری نیت کو مزید خراب کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا. وہ بھی اپنے کھودے ہوے اندھے کنویں میں اوندھے منہ گری پڑی ہے نہ اسے دن کا چین ہے نہ رات کا سکون وہ ہر وقت اپنے سر کے بال نوچتی اور چیخیں مارتی ہے اور اپنی ناراض موت کو صداءیں دیتی ہے مگر اس کی موت بھی میری موت کی طرح اس کو ترسا رہی ہے. یہ موت بھی ناں ساتھی بھی ہے اور دشمن بھی. بھلے بھلے لوگ تو میں نے چلتے پھرتے ہی دنیا سے رخصت ہوے دیکھے ہیں. سنتے تھے کہ فلانے نے فجر کی نماز پڑھی سلام پھیرا اور جان، جان آفرین کے سپرد کر دی. سلمیٰ کی ماں اپنی سلمیٰ دھی رانی سے فون پہ بات کر رہی تھی ایک غوطہ لگا اور اماں جان راہی عدم کا شکار ہو گییں، مگر میں تو ایسے بستر مرگ پہ مردار کی طرح پڑا ہوں کہ میرا کوئی والی وارث نہیں. والی وارث سے یاد آیا کہ کبھی میں بھی کسی کا والی وارث تھا اور میرے بھی کوی والی وارث تھے. اپنے والدین کے گھر پیدا ہونے والا میں تیسرا اور ست ماہا بیٹا تھا. جب میں پیدا ہوا تو میری ماں شدید بیمار تھی، اتنی بیمار کہ بستر سے بھی نہ ہل سکتی تھی. لہٰذا مجھے پالنے پوسنے میں میری باجی نفیسا کا بہت بڑا ہاتھ تھا، باجی نفیسا سارے خاندان کی باجی تھیں، میری تایا زاد بہن تھی، مگر چونکہ میری ماں نے اپنی کوی بیٹی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی بنا رکھا تھا اور آپا نفیسہ بھی ہم سب بھائیوں پہ دل و جان سے نہ صرف نثار تھی بلکہ اس نے ہماری فیملی کی خدمت گزاری میں کوی کمی کبھی بھی نہ چھوڑی میرے جنم دن سے لے کر میری شادی اور میری شادی سے لیکر میرے بالی بچوں کی پیدائش تک آپا نفیسا نے میرے خا ندا ن کی خدمت میں ہر فرض ادا کیا، وہ میرے اور بڑے دونوں بھائیوں پر بھی بڑی مہربان تھی مگر میں اتنا نیچ اور کمینہ تھا کہ میں نے اپنی خدمت گزار تایا زاد بہن پہ اپنی شر پسند طبیعت اور اپنی شر پسند بیوی کے کہنے میں آ کر کچھ ایسگ گھٹیا الزام لگا دیے کہ وہ جو پہلے ہی بے اولادی کے طعنوں کی زد میں تھی گھر سے بے گھر ہو گءی. میں چونکہ premature baby تھا تو ذہنی طور پہ اتنا ہوشیار نہیں تھا لہذا میرے دونوں بڑے بھای بڑی بڑی پوسٹس پہ تھے، بہت زیادہ امیر تھے جبکہ میں ایک اوسط درجے کا بزنس مین لیکن میری حاسد طبیعت نے سگے بھائیوں کا حسد بھی جی بھر کے کیا اپنے والدین کے کان بڑے بھائیوں اور بھابیوں کے خلاف بھرنے میں میں نے کوی کمی نہ چھوڑی والدین کو بھلا پھسلا کے ان کی ساری جائیداد اپنے نام کروا لی، دونوں بھائیوں کو عاق کروا دیا یہ سب کچھ کرنے کے بعد والدین کو اپنی لاڈلی حافظہ بیوی کے کہنے پہ گھر سے دھکے دے کے نکال دیا والدین بڑے بھائی کے پاس رہنے پہ مجبور ہو گیے اب بھی میری شر پسند طبیعت کو چین نہ آیا میں نے بڑے بھائی کو بھی دھمکیاں دینی شروع کر دیں والدین کی سال بیماری بھگت کے دنیا سے منہ موڑ گیے میں نے بزنس میں بھی اپنے پارٹنر سے دھوکہ کیا، وہ بھلا آدمی تھا ایماندار بندے کو ہی ساری دنیا ایماندار دکھای دیتی ہے، اس نے مجھ پہ اندھا دھندبھروسہ کیا، میں ازلی حاسد اور کمینہ آہستہ آہستہ اسے چھری مارتے مارتے اس کی انتڑیاں ہی باہر نکال لایا اس کو جب ہوش آیا تو وہ سڑک پہ تھا اور اس کے بچے فٹ پاتھ پہ. میں سوچتا ہوں اس کمینے لالچ کا زہر میرے بدن میں کہاں سے داخل ہوا اور اس حسد اور لالچ نے میرے بدن کو کیسے آکٹوپس کی طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ میں نہ صرف والدین کی گستاخی کا مرتکب ہوا، ماں جیسی بہن کو گھر سے بے گھر کروایا، پارٹنر کے ساتھ بے ایمانی کی؛ بھائیوں کو ان کی جائیداد سے عاق کروایا اپنی بیوی اور بچوں کو خوش کرنے کے لیے خواہ مخواہ کی دولت کے انبار لگاے اور اولاد پڑھ لکھ کے ایسے چپت ہوی کہ اس نے کبھی ہم میاں بیوی کی خبر ہی نہ لی بیوی پاگلوں کے ہسپتال میں اور میں گھر کے اس تنہا ماربل فیکٹری میں اپنے پیپ زدہ جسم کے ساتھ تمام دنیا کے لیے نشان عبرت بن چکا ہوں. ہاں میں ہی ہوں وہ ناہجاز، نافرمان ،گستاخ، لالچی، حسد خور کاکا، جس کے والدین نے اس کے پیدا ہونے پہ بے شمار خوشیاں منای تھیں. خدا آپ کو اور ہم سب کو اس طرح کے تمام شر پسند کاکوں اور کا کیوں سے محفوظ رکھے آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
Leave a Reply