وہ نقاب میں چلی جارہی تھی- شہر کی رونق شباب پر تھی اور جب وہ اپنی ہمراز سہیلی کے گھر پہنچی تو نقاب ایک سمت اچھال کر ٹیپ ریکارڈ کی طرح بجنے لگی ____ اف! کیا بتاؤں نازیہ! راستے میں کیسے کیسے سین نظر آۓ؟ – پہلی چوک پر جو چاۓ کی دکان ہے نا وہاں ایک پروانہ بیٹھا دیوار پر لگی ایک نیم برہنہ تصویر پر رال ٹپکا رہا تھا اور پچھلے نکڑ والے حجام کی دکان پر کوئی شریف زادہ آئینے کے عکس میں آتے جاتے حسین چہروں سے آنکھیں سینک رہا تھا اور جب میں تمہاری گلی کی زرد بلڈنگ کے پاس سے گزری تو اس کی چھت پر کوئی دل پھینک عاشق کتے کی طرح گھور گھور کر مجھے دیکھ رہا تھا- اس وقت تک اس بوالہوس کی نگاہیں میرا تعاقب کر رہی تھیں جب تک میں اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی ۔۔۔ !
اف! نازیہ! کتنے بےشرم ہوتے ہیں آج کے یہ مرد ۔۔۔۔ !
سہیل نور (جگتدل)
اسسٹنٹ ہیڈ ٹیچر
کولکاتہ میونسپل کارپوریشن اسکول
Leave a Reply