rki.news
تحریر: فخرالزمان سرحدی، ہری پور
اے ربِ کریم! ایک نظریہ اور ایک خواب سے معرضِ وجود میں آنے والی یہ مملکت سلامت رہے۔ فضاؤں میں پرواز کرتے شاہینوں کے حوصلے ہمیشہ بلند رہیں۔ خشکی ہو یا تری، دفاعِ وطن کی خاطر اٹھنے والے قدم کبھی سست نہ پڑیں۔ دہشت گردی، فرقہ واریت اور تعصبات کی آگ اس سرزمین پر خوف و ہراس پیدا نہ کر سکے۔ دلوں میں جواں عزم، حوصلہ اور یقین کی شمع روشن رہے، اور وطن کی مٹی سے کھلنے والے پھول ہمیشہ تروتازہ رہیں۔
وہ قوم واقعی عظیم ہوتی ہے جو آزاد فضا میں سانس لیتی ہے، اپنے مذہبی، سماجی اور ثقافتی تہوار امن و سکون کے ساتھ مناتی ہے اور عزت و وقار کے ساتھ جینے کو زندگی کا اصل مقصد سمجھتی ہے۔ ایک آزاد وطن کا قیام ربِ کریم کی سب سے بڑی عطا ہے، اور اس کی حفاظت ایمان کا حصہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین پر بسنے والے لوگ، باہمی اخوت، محبت اور برداشت کے جذبے کے ساتھ خوشی و غم میں ایک دوسرے کے شریک بنتے ہیں۔
تعلیم وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی افراد کی تعلیم سے مشروط ہوتی ہے۔ دفاعِ وطن کا جذبہ، سرحدوں کی حفاظت کی تڑپ اور قومی غیرت کا شعور بھی علم کے زیور ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے سائے ہوں یا نفرتوں کے حصار—یہ سب تعلیم کی روشنی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات سے آراستہ ذہن ایمان کی حقیقی مٹھاس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور انسانیت کے احترام کا درس عام کرتے ہیں۔
بقول شاعر
یہ غازی، یہ تیرے پُراسرار بندے
یہی وہ لوگ ہیں جو محبت کی روش کو فروغ دیتے ہیں، خواہشات کی غلامی کے بجائے استحکام، صبر اور خوشحالی کو ترجیح دیتے ہیں۔ علم کی دولت سے وہ معاشرتی، سماجی، مذہبی اور سیاسی زندگی میں مثبت انقلاب برپا کرتے ہیں۔ صداقت کے چراغ روشن کرتے ہوئے اپنی منزل کی تلاش جاری رکھتے ہیں اور محبت و الفت کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔
کتنی عظیم ہیں وہ ہستیاں جو دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دیتی ہیں۔ وطن کی مٹی سے کھلنے والے یہ پھول، اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے شہداء کو ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں، کیونکہ انہی قربانیوں کے طفیل آزادی کا چراغ روشن رہتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب اتفاق، اتحاد اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھیں۔ معلمین ہوں یا علماۓ کرام، سیاستدان ہوں یا ادیب، صحافت سے وابستہ قومی آوازیں ہوں یا افواجِ پاکستان کے سپوت—سب کے دل وطن کی محبت سے سرشار ہوں۔ منزل سے آگے بڑھ کر نئی منزل کی تلاش کا جذبہ زندہ رہے، کیونکہ وہ قوم برباد ہو جاتی ہے جس کے سامنے کوئی واضح منزل نہ ہو۔
علامہ اقبالؒ کے اس فکر انگیز پیغام کو اپنانا ہوگا کہ
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے
اگر ہم نے اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنی سوچ کو ملت کے ربط سے جوڑ لیا، تو وطن کی مٹی سے کھلنے والے یہ پھول ہمیشہ مہکتے رہیں گے، اور یہ سرزمین امن، علم اور وقار کی علامت بنی رہے گی۔
Leave a Reply