Today ePaper
Rahbar e Kisan International

وہ ایک تھپڑ

Articles , Snippets , / Monday, January 26th, 2026

rki.news

تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
کبھی کبھار ہم اپنی الجھنوں میں اس شدت سے گرفتار ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کی تکلیف اور پریشانی نہ ہی محسوس ہوتی ہے نہ ہی دکھای دیتی ہے اور نہ ہی سنای دیتی ہے، محسوس کروانے والا، بتانے والا، دکھانے والا، کچھ سمجھانے والا، شاید ہم سے بھی زیادہ بونگا اور بزدل ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار بات اس بزدلی کے حصار کو پھاڑ کر دو بدو مقابلے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کی جان لینے کی نوبت تک بھی پہنچ جاتی ہے اور ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ظالم اور مظلوم دونوں ہی اپنے اپنے موقف پہ کسی حد تک درست ہوتے ہیں، ظالم اور مظلوم دونوں ہی میں سچا، میں سچا کا علم بلند کرتے ہوے اپنے آپ کو صادق ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا نے میں کوی کمی,کوی کسر نہیں چھوڑتے. گندا بازار صرف نام ہی کا گندا نہ تھا یہاں بکنے کو لنڈا ہی لنڈا تھا، ہر طرح کے جوتے معمولی، مہنگے، کھلے، بند، ہر طرح کے کپڑے، سویٹر، کوٹ، ہر طرح کے بیگ بستے، ہر طرح کے نقلی زیورات، ہر طرح کے برتن. ویسے تو بازار میں پورا سال ہی گہما گہمی رہتی تھی مگر سردیوں میں تو اس بازار کی رونقیں بام عروج پہ ہوتی تھیں، اللہ جانے بیچنے والے اور خریدنے والے کہاں کہاں سے ٹپک پڑتے تھے؟ مگر سچ میں امتل کو تو یہ بازار کبھی بھی نہ بھاتا تھا، اس کا ذاتی خیال تھا کہ گھر کی وحشت اور دہشت سے چند پل جان چھڑانے کے لیے مرد و خواتین اس بازار میں نکل آتے تھے، امتل ابھی ابھی بنک سے اپنی تنخواہ لے کر نکلی تھی کہ اس کی بھاری جیب نے خواہ مخواہ ہی اسے گندے بازار کی گندگی میں دھکیل دیا، وہ رک رک کے بد حواس عورتوں اور نظر باز مردوں کو جوتے اور کپڑوں کا بھاو کرتے ہوے بے دلی سے دیکھتی ہوی ادھر سے ادھر چکراتی پھر رہی تھی کہ اچانک کوی اپنے پورے وزن سے اس کی پشت پہ آن گرا، امتل کے دماغ نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بنا سوچے سمجھے ہی یہ گمان کر لیا کہ کوی نشءی اس کی تنخواہ پہ ہاتھ صاف کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو چکا ہے، اس نے بنا دیکھے، بنا سوچے بنا سمجھے الٹے ہاتھ کا ایک کرارا تھپڑ اس وارداتیے کو جڑ دیا، مگر اصل کمال بنا دیکھے، بنا سوچے ،بنا سمجھے یوں کرارا تھپڑ مارنے میں نہ تھا، تھپڑ مارنے کے بعد جب امتل نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو اس کے اوسان ہی خطا نہ ہوے، صحیح معنوں میں اس کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گیے، وہ کوی مسٹنڈا یا لونڈا لپاڑا نہ تھا ایک نو دس سالہ لڑکا بمشکل باسیکل کے پیڈل گھماتا ہوا کسی مریض کے لیے گھر سے ہسپتال کھانا لے کر جا رہا تھا، جو اپنے اناڑی پن کی وجہ سے امتل کو جا ٹکرایا اور امتل نے اپنی ساری ہوشیاری کو بروے کار لاتے ہوے ننھے، معصوم اور بے گناہ لڑکے کا منہ ہی لالو لال کر ڈالا تھا، لڑکے نے سیکل اور کھانے کو بھول کر تھپڑ کی اذیت سے زور زور سے رونا شروع کر دیا اور اتنا رویا، اتنا رویا کہ سارے بازار والے کیا گاہک اور کیا خریدار سب اس لڑکے کے حمایتی ہو گیے وہ نمانا اپنی بے گناہی کو کسی ماہر وکیل کی طرح دنیا کی عدالت میں ثابت کرنے کے لیے امتل جیسی گھاگ اور زمانہ شناس عورت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بس ایک ہی فقرے کی گردان کرتا تھا، مجھے تھپڑ کیوں مارا؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
، اب اگر اس موقع پہ امتل ذرا سی بھی بے وقوفی کا مظاہرہ کر جاتی تو اس کے لیے بہت برا ہو تا، اس نے بڑے ٹھہراؤ اور پیار سے روتے ہوے بچے کو اپنے گلے سے لگایا، دلاسہ دیا، معافی مانگی، سامنے لگے سٹال سے مریض کے لیے اچھا سا کھانا پیک کروایا اور بچے کے ساتھ نہ صرف مریض کی تیمارداری کے لیے گءی بلکہ ان کے علاج معالجے کے لیے بھی مالی مدد کر آی، ساری نفرت اور تھپڑ کی تکلیف ، چبھن اور اذیت کو امتل کے احسن سلوک نے مرہم میں بدل ڈالا تھا، ہواوں میں شوخی آ گءی تھی اور پرندوں نے زور شور سے رخصت کے نغمے گانے شروع کر دیے تھے، آج زندگی میں پہلی بار امتل کو گندا بازار میں آنا بہت ہی اچھا لگا تھا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International