تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں غربت اور بےروزگاری بہت بڑھ چکی ہے۔روزگار کے مواقع نہیں ہیں اور ملازمتوں کی بھی کمی ہے۔پاکستانی روپے کی ویلیو بھی بھی دن بدن گر رہی ہے۔اوپر سے سیاسی عدم استحکام نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔پاکستانی نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہرسال پاکستانی نوجوان لاکھوں کی تعداد میں بیرون ملک روزگار کے لیے جا رہے ہیں۔اگر اس طرح پاکستانی بیرون ملک جاتے رہے توچند سال کے بعد کام کا بندہ نہیں رہے گا۔بیرون ملک جانے والے افراد ڈالرز اور دوسری کرنسیوں کی صورت میں زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔محنت کے عوض جو ان کو معاوضہ ملتا ہے،وہ زیادہ قیمت رکھنے کی وجہ سےپاکستانی کرنسی میں تبدیل ہو کر بہت اچھااماؤنٹ بن جاتاہے۔بیرون ملک کمانے والے افراد پاکستان اور اپنے خاندانوں کے لیےخوشحالی کا سبب بن رہے ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ بیرون ملک جانے والے افراد کوسہولیات مہیا کی جاتیں،لیکن ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا۔کوئی بھی ملک سرمایہ کاری کو بڑی ترجیح دیتا ہے،کیونکہ ملک کا نظام سرمائےسےہی چلتا ہےلیکن پاکستان میں سرمایہ بھیجنے والے افراد پریشانیوں کو شکار رہتے ہیں۔بیرون ملک اگر کسی پاکستانی کا مسئلہ بن جائےتو سفارت خانہ مسئلہ حل کرنےمیں دلچسپی نہیں لیتا۔چاہیے تویہ تھا کہ فوری طور پرپریشان حال پاکستانی کا مسئلہ حل کیا جاتا۔
بیرونی ملک بسلسلہ روزگارجانے والے افرادبھی آسانی سے نہیں جاتے۔ایجنسیاں اور ایجنٹ حضرات ان سے بھاری معاوضہ طلب کرتے ہیں اور دوسری تکالیف بھی ان بےچاروں کوجھیلنی پڑتی ہیں۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایجنٹ رقم بھی وصول کرتا ہے اور باہر بھی نہیں بھیجتا۔ان بےچاروں نےوہ رقم جو ایجنٹ کو دی ہوتی ہے،کسی نے قرض کے ذریعے حاصل کی ہوتی ہے اور کسی نے ماں کا زیور بیچا ہوتا ہے۔کئی افراد نے وہ رقم رقبہ یا دوسری قیمتی اشیاء بیچ کر اکٹھی کی ہوتی ہے لیکن دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔اب جو فرد ان ایجنٹوں کا شکار ہوتا ہےتو حکومت کی طرف سے بھی کوئی خاص مدد نہیں ہوتی۔میرے جاننے والے کئی افراد ہیں جن کے ساتھ دھوکے ہو چکے ہیں اور وہ رقم کی وصولی کے لیےکئی قسم کی پریشانیوں کا شکارہوگئےہیں۔حکومت سختی سےدھوکہ دینے والےایجنٹوں کا محاسبہ کرےاور ان سے رقم جرمانہ سمیت وصول کی جائے اور ان کو جیل کی سزا بھی دی جائے۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ انسانی سمگلروں کےہاتھ چڑھ جاتے ہیں اور سمگلرزان کوجانی اور مالی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ بیرون ملک خصوصا یورپی اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف غیرقانونی طورپربھیجنے کا جھانسہ دے کرکسی ملک کی بارڈر کےقریب یا کسی خطرناک جگہ پربے چار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں،جس کی وجہ سےکئی افراد گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں یا ان کو قید کر دیا جاتا ہے۔چند ایک خوش قسمت ہوتے ہیں جن کوروزگار مل جاتا ہے۔حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کیا جا چکا ہے کہ انسانی سمگلروں کےخلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔چند ایک مجرموں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے،لیکن وہ عمل کافی نہیں بلکہ تمام انسانی سمگلروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔جو افراد غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک روزگار کے لیے جاتے ہیں ان کو چاہیے کہ قانونی راستہ اختیار کریں۔بعض افراد دو سے تین ملین یا زیادہ رقم بھی ادا کرتے ہیں لیکن پھر بھی مقصود حاصل نہیں ہوتا۔اگر ایک فردکئی ملین روپے ادا کر رہا ہےتو وہ پاکستان میں بھی کوئی بڑا نہ سہی لیکن چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے۔پاکستان سے صرف لیبر نہیں جاتی بلکہ ڈاکٹر، انجینئر اوردیگر شعبوں کے قابل افراد بھی بیرون ملک روزگار کے لیے جاتے ہیں۔قابل افراد کا جانا تشویش ناک بات ہے۔پاکستان میں قابل افراد کو بھی کئی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیے وہ بھی بہتر مستقبل کے لیے دوسرے ممالک کی طرف چلے جاتے ہیں۔
دوسرے ممالک میں روزگار کے لیے جانا کوئی برا فعل نہیں لیکن زیادہ تعداد کا جانا پریشان کن ہے۔حکومت روزگار کی طرف خصوصی توجہ دے۔چاہیے تو یہ تھا کہ نئی ملازمتیں پیدا کی جاتیں کیونکہ ہر سال آبادی میں بڑھتا اضافہ تشویش پیداکررہا ہے،لیکن ملازمتیں پیدا کرنے کی بجائےپہلے کی ملازمتیں بھی ختم کی جا رہی ہیں۔روزگار کے مواقع پیدا کرنےچاہیے۔لاکھوں افرادخوشی سے نہیں جاتے بلکہ مجبوراجاتے ہیں،اگر ان کو یہاں روزگار دستیاب ہو جائے تو وہ نہیں جائیں گے۔حکومت کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کے حقوق کا خیال کرے۔لاکھوں افراد جو دوسرے ممالک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ یہاں پاکستان کو بھی ترقی یافتہ بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر کوئی خوشی سے جانا چاہے تو بہتر ہے لیکن جو مجبوری کی حالت میں جاتے ہیں تو حکومت کو ان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔پاکستان میں ہر شعبہ تنزلی کی طرف جا رہا ہے،لیکن حکمرانوں کی عدم توجہی پریشان کن ہے۔اکثر اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ فلاں جگہ پراتنے پاکستانیوں کوگولی کا نشانہ بنا دیا گیا ہےیافلاں جگہ پر کشتی ڈوب گئی ہےیا غیر قانونی طور پر جانے والے افرادمختلف پریشانیوں میں پھنس چکے ہیں،حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی۔حکومت کو چاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پربیرون ملک جانے والے افراد کے مسائل حل کرے۔اس مسئلہ کو بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے کہ یہاں روزگار کے مواقع زیادہ پیدا ہوں۔جو انڈسٹریز پاکستان میں بند ہو چکی ہیں،ان کو فوری طور پر سبسڈی دی جائے۔جو صنعتیں چل رہی ہیں،ان کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر حکومت کوئی ریلیف دینے کا ارادہ کرتی ہے تو اکثر اپنوں کو ہی نواز دیا جاتا ہے۔بعض اوقات ریلیف حاصل کرنے والےصنعتوں کونظر انداز کر دیتے ہیں۔سرمایہ داربھی اکثر ورکرز کے حقوق ادانہیں کرتااورفیکٹری میں بننے والی اشیاء کا معیار بھی بہتر نہیں ہوتا۔ورکرز کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے ورنہ یہی ورکرز حکمرانوں کے لیےخطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک جانے والے افراد کو اگر یہاں روزگار کے مواقع حاصل ہو جائیں تو یہاں بھی محنت کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ جو بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور بھاری سرمایہ پاکستان بھیج رہے ہیں،وہ پاکستان کے محسن ہیں۔
Leave a Reply