Today ePaper
Rahbar e Kisan International

پرانے گدھ ، نئے شکار

Articles , Snippets , / Friday, January 23rd, 2026

rki.news

عامرمُعانؔ

سال 1945، دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست فاش کے بعد دنیا میں روس اور امریکہ کے درمیان ایک طویل مدتی سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ 1945 تا 1991 تقسیم روس تک، یہ جنگ عظیم کے بعد ایک خون آشام دور تھا۔ جس میں دونوں طاقتوں کے درمیان موجود سرد جنگ سے دنیا میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہیں۔ اس دوران دونوں ممالک نے ہتھیار سازی کی بھرپور دوڑ لگائے رکھی۔ ہتھیار بنا کر اپنے حلیف ممالک کو بیچ کر بزعم خود فاتح عالم کے نعرے لگاتے رہے۔ دونوں  اسلحہ کی دوڑ سے دنیا کو جہنم بنا رکھنے کے منصوبے بنا کر ان پر فخر سے اپنی گردنیں اکڑا کر دنیا کو یہ باور کرواتے رہے، کہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم دنیا میں بسنے والے تمام جانداروں کو چٹکی بجاتے ختم کر سکتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کی پشت پر کھڑے ہو کر ان کو مرغوں کی طرح لڑایا کرتے تھے، اور اس تماشہ سے محظوظ ہو کر خوب تالیاں بجایا کرتے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب ویت نام میں امریکہ نے روس کے خفیہ ہاتھوں کے ذریعے ہزیمت کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا، اور پھر اس کا بدلہ روس سے اس کو افغانستان میں شکست سے دو چار کر کے لیا۔ ہر دو جنگوں میں کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے، اس کا شمار ہونے کے باوجود ان گمنام اموات پر رونے والے صرف ان کے عزیز ہی تھے۔ اس سرد جنگ کے براہ راست متاثرین میں پاکستان بھی شامل رہا، جو ناصرف ایک طویل عرصے تک اس سرد جنگ کے اثرات بھگتا رہا، بلکہ آج تک ان زخموں سے خون رس رہا ہے۔ 1991 میں تقسیم روس کے بعد، روس کی طاقت کمزور ہونے کے بعد، سرد جنگ کے صرف ایک طاقتور حریف کے میدان میں رہ جانے کی تبدیلی سے جنگ و نفرت کے خاتمہ کا سوچا ضرور گیا تھا، لیکن شاید دنیا ان اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوتی۔ جہاں کسی ایک کو طاقت حاصل ہو جانے پر دنیا میں امن و خوشحالی کا دور شروع ہو جائے۔ ایسے یک طاقتی ملک عموماً فَوراً چنگیز خان سے رشتہ جوڑ کر سب فنا کرنے کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ یہی امریکہ نے بھی کیا۔ سو 1991 کے بعد بھی دنیا کے حصہ میں سکون کا سانس نہیں آیا، اور دنیا ان کی لگائی آگ میں جلتی ہی رہی۔ مختلف مسائل سر اٹھاتے رہے جو یک طاقتی امریکہ نے انصاف کے بجائے اپنے مفاد کے مطابق حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مزید الجھا دیے۔ اسی وجہ سے یہ تمام مسائل ہمیشہ حل طلب ہی رہتے ہوئے دنیا میں مزید بدامنی کا باعث بنتے چلے گئے۔ اس سارے دور میں چین خاموشی سے اپنی طاقت  کے حصول کے سفر پر گامزن رہا۔ اپنی حیثیت ایک مضبوط طاقت کے طور پر منوانے کا چین کا یہ منصوبہ اب دنیا پر ظاہر ہونے لگا ہے۔ چین اور روس کے امریکہ مخالف بلاک بننے سے پہلے کی طرح ایک سرد جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ایک بلاک میں ہونے کے باعث یہ ممالک امریکہ کی بڑھتی ہوئی خودسری پر روک لگانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ جدید اسلحہ بیچنے کے لئے جگہ جگہ پھر سے جنگ کے شعلے بھڑکائے جا رہے ہیں۔ ان طاقتور ممالک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں پھر سے نئے طرز کے جدید اسلحہ کا انبار لگا کر بیچنے کا عمل شروع کر چکی ہیں۔ ان ممالک کے نزدیک یہ بات حرف آخر ہو چکی ہے کہ دنیا میں امن کا آنا، ان کے معاشی حالات میں بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں نے اتنا اسلحہ بنا کر آخر بیچنا کس کو ہے؟ یہی سوال ان ممالک کو خود آگ لگا کر بجھانے کی اداکاری کرنے والے اداکاروں میں شامل کر رہا ہے۔ ان میں سے بہت سے اداکار تو اکیڈمی ایوارڈ کے مستحق بھی ہیں۔ جو ایک طرف امن کا پرچار کرنے کے بعد، دوسرے ہاتھ سے اسلحہ بیچنے کا ایگریمنٹ بھی سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اب دنیا کے حالات 1945 سے 1991 والے دور سے زیادہ سنگین ہو چکے ہیں۔ اتنے ماہ و سال گزر جانے کے بعد اب اسلحہ کی جدت بھی کئی فیصد بڑھ چکی ہے۔ اب زیادہ انسانوں کو کم وقت میں صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔ اب بھی ان مظلوموں کی اموات پر ان کے عزیزوں کے سوا رونے والا کوئی نہیں ہے۔ غزہ ہو یا شام، ایران ہو یا برما، عراق ہو یا لیبیا، افغانستان ہو یا نائجیریا، کیوبا ہو یا وینزویلا، گرین لینڈ ہو یا یوکرین ہر جگہ سے دھویں کے بادل اٹھ کر ماتم کناں ضرور ہیں، لیکن ہر دو طاقتوں کے پاس ان رونے والوں کے آنسو پونچھنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ ابھی صرف ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ مختلف ممالک کو لڑاؤ، اور پھر دونوں طرف اسلحہ بیچ کر اپنے ملک کے خزانے بھرو۔ لڑائی اور اس میں ہوتی اموات پر پھر دکھاوے کی اداکاری کر کے مزید اسلحہ بیچو۔ فی زمانہ سرد جنگ کا دوسرا دور شروع ہو چکا ہے۔ اب یہ دور کس کی تقسیم پر ختم ہو گا۔ یہ وقت کے بند اوراق کھلنے پر ہی آشکار ہو سکے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International