Today ePaper
Rahbar e Kisan International

پنجابی اور پراٹھے

Articles , Snippets , / Sunday, January 18th, 2026

rki.news

مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر

خطہ پنجاب قبل از مسیح سے تا حال کبھی بھی زی زرع نہیں رہا بلکہ باکشت وزرع میں باکمال،اسی لئے اس خطہ کو برصغیر کی food factory کہتے ہیں۔میرے سوہنے پنجاب کی خاصیت ہی یہی ہے کہ یہاں لوگ بھی سوہنے ہیں کیونکہ یہ خوراک اگاتے ہی کھانے کے لئے ہیں۔پنجاب کرہ ارض پر واحد خطہ ہے جہاں زندگی کھانے کے لئے ہی گزاری جاتی ہے۔پوری دنیا میں لوگ بھوک سے مرتے ہیں مگر پنجابی کھا کھا کے یا کھانے پہ مرتے ہیں۔یقین نہ آئے تو شادی بیاہ کی کسی تقریب میں قبل از وقت یہ آواز لگا دیں۔
”روٹی کھل گئی جے“
پھر دیکھئے میرے شیر پنجابی کیسے کھل کھل جاتے ہیں،کبھی کبھار تو دیہی علاقوں میں اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے دھوتیاں بھی کھل جاتی ہیں۔مگر مجال ہے کوئی اس ڈر سے مڑ کے دیکھے کہ کہیں پتھر کے نہ ہو جائیں۔پنجاب کے بعض علاقوں میں تو پراٹھے کو وہی مقام حاصل ہے جو گھر کے داماد کو،بروز جمعہ تو اتنی عزت و توقیر داماد کو بھی نہیں ملتی جتنی کہ آلو والے پراٹھے کو۔پنجاب میں مہمان کو پراٹھا نہ ملے تو وہ میزبان کو ایسے نظروں سے گرا دیتے ہیں جیسے پی ٹی آئی شیخ رشید کو۔کہتے ہیں شیخ رشید کی من پسند غذا بھی پراٹھے ہی ہیں مگر دس بارہ روغنی نان اور دو پیالے پائے کے بعد۔سنا ہے شیخ صاحب تو اس سے ہاتھ بھی نہیں ملاتے جو ان کی پاکٹ میں کچھ نہ پائے۔
موسم سرما آتے ہی جن دو چیزوں کی بھرمار ہوتی ہے ان میں ساگ اور پراٹھے پہلے نمبر پہ رہتے ہیں۔ساگ پر میرا الگ سے ایک مضمون شائع ہو چکا ہے تاہم پراٹھے پر قلم اٹھانے سے قبل میں نے بھی دو پراٹھے آلو اور مولی والے ٹھونس رکھے ہیں تاکہ زور قلم میں اضافہ ہو۔روائتی کھانوں میں پراٹھے کو وہی مرتبہ ومقام حاصل ہے جو برطانوی سیاست میں ملکہ برطانیہ کو تھا۔پنجاب کے کھانوں سے پراٹھا اور برطانوی سیاست سے ملکہ نکال دیں تو پیچھے رونا دھونا ہی بچتا ہے۔پنجابی بچوں کو ناشتہ میں پراٹھا نہ ملے تو رونے پر مائیں بچوں کو ایسے ”دھوتی“ ہیں جیسے دھوپی کپڑے۔پنجاب کے گھروں سے صبح دم اٹھنے والی پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوشبو،مذہبی انتہا پسندی سے کسی طور کم نہیں سمجھی جاتی،یقین نہ آئے تو تین بچوں میں سے کسی ایک کو آلو مولی و الا پراٹھا دے کر دیکھ لیں باقی غلام علی کی غزل کی عملی تفسیر پیش کردیں گے کہ ہنگامہ ہے کیوں برپاتھوڑی سی ہی”مولی“ ہے۔
اگر پراٹھوں کی اقسام کو بیان کروں تو ذہن کے پردہ سکرین پر سادہ،آلووالا،مولی والا،قیمہ والا اور بلوں والا پراٹھا ہی ناچتا ہے اس کے علاقہ اگر کوئی قسم آپ کے ذہن میں ہو تو ضرور دعوت کیجئے گا اس پہ بھی قلم اٹھا لیا جائے گا مگر اس بات کی کوئی گارنٹی نہ ہے کہ پراٹھے کھانے کے بعد مجھے کوئی دستر خوان سے کیسے اٹھاتا ہے۔
سادہ پراٹھا،وہ غریب پراٹھا ہے،جس کی قسمت میں بھی غربت زدہ خاندان ہی لکھا ہوتا ہے۔غریب گھرانوں میں یہ اس دن بنتا ہے جب رات کی روٹی اور دال سبزی ”زندہ“ بچ جائے۔سادہ پراٹھا بنانے کاسادہ سا نسخہ یہ ہے رات کی بچی روٹی کو اتنا ہی گھی لگا یا جائے غریب کے گھر تڑکا لگاتے ہوئے لگتا ہے۔بس ذرا سی”شوں“اور کہانی ختم۔
آلو والاپراٹھا،جسے پراٹھوں کا وزیراعظم کہا جاتا ہے،اس وزیر اعظم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سیاسی نظر سے دیکھیں گے تو پراٹھا بھی ویسے ہی نظر آئے گا جیسا کہ وزیراعظم۔اس پراٹھے میں آلو کی فلنگ اتنی ہی ضروری ہے جتنا فارم 47۔
مولی والاپراٹھا وہ خطرناک ”تابکاری“ ہتھیار ہے جسے کھانے کے بعد انسان خود تو سکون میں رہتا ہے مگر اردگرد کے ماحول کوہیروشیما یا ناگا ساکی بنا دیتے ہے۔مولی والا پراٹھا کھانے کے بعد اخلاقی وقانونی طور پر سماجی فاصلہ رکھنا از حد ضروری ہے۔وگرنہ ڈرامہ والا سین ہو جائے گا کہ ایک دیہاتی بس میں سفر کر رہا تھا کہ کسی نے آواز دی ہوا چھوڑو،بس دیہاتی جو مولی والے دو پراٹھے کھا کر آیا تھا ایسی ہوا چھوڑی کہ مسافروں کو بس چھوڑنا پڑ گئی۔مولی والا پراٹھا کھا کر ”ہوا چھوڑنا“تو قابل برداشت ہے تاہم ”ہلکا پھلکا میوزک“جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔سماجی بائیکاٹ سے بہتر ہے تین چار پراٹھے کھا کر سماج کا رخ کیا جائے بائیکاٹ لوگ خود ہی کر لیں گے۔ایک شخص پراٹھا کھا کر ڈاکٹر کے پاس پیٹ درد کی دوا لینے گیا تو ڈاکٹر نے پوچھا کہ ناشتہ کیا ہے،
مریض بولا جی کیا ہے۔
ڈاکٹر اچھا کون سا؟
مریض بولا پراٹھا۔۔۔۔۔سادہ یا آلو والا
مریض نہیں ڈاکٹر صاحب ہائبرڈ یعنی آلو مولی والا مکس۔
مجھے ذاتی طورپر بل والاپراٹھا پسند ہے کہ یہ کھانے کے بعد بھوک کے کس بل نکال دیتا ہے،نازک ایسا کہ میر کا مصرع”نازکی اس کے لب کی کیا کہیے“بھی شرما جائے۔بل در بل ایسا کہ خم کاکل بھی صراط مستقیم دکھائی دے۔نفاست ایسی کہ کھاتے ہوئے گلِ اندام کے حنائی ہاتھوں کی مخروطی انگلیا ں بدن دریدہ ہو جائے۔
آپ کو یہ پڑھ کر حیرانگی ہوگی کہ پراٹھے بھی اپنا سیاسی مزاج رکھتے ہیں جیسے کہ سبزی مکس پراٹھا مخلوط نظام حکومت،آلو والا جمہوری کہ جسے کھانے اور ذائقہ کا سواد لینے کا ہر کوئی متمنی،آلو مولی والا ہائبرڈ سیاسی نظام سے مشابہت کہ بنائے کوئی اور کھائے کوئی اور،بلوں والا پراٹھا ملحدوں کی طرح کہ کچھ خبر نہیں ہر بل کے بعد کیا ذائقہ نکل آئے،سنا ہے آجکل توگوبھی اور ساگ والے پراٹھے بھی مارکیٹ میں لانچ کر دئے گئے ہیں اندازہ آپ خود لگالیجئے گا۔اشارتاًعرض ہے کہ جسے کھانے کے بعد دل کو”اقرار“آ جائے گا۔
جن گھروں کے صحن بڑے ہوتے ہیں اور چولہے اوپن ماحول میں تو وہاں صبح سویرے بچوں کے درمیان پراٹھے کو لے کر ایسی ایسی جنگ ”پراٹھی“ہوتی ہے کہ جنگ پلاسی بھی ماند پڑتی دکھائی دے۔جنگ پلاسی و جنگ پراٹھی میں فرق صرف میدانِ کارزار کا ہوتا ہے وگرنہ نتائج دونوں کے تباہی پر منتج ہیں۔میری سب سے ایک التماس ہے کہ پراٹھے کے ساتھ دہی،پودینہ کی چٹنی یا اچار ضرور رکھیں کہ یہ پیٹ میں جا کر خانہ جنگی کو روکنے میں امن فوج کا کردار ادا کرے گی۔اس فقرہ کو غیرسیاسی تصور کیا جائے کہ پراٹھے کا تعلق کچن سے ہے کچن کیبنٹ سے نہیں۔کیبنٹ،کچن کیبنٹ اور پراٹھے میں قدر مشترک یہ ہے کہ تنیوں ہی ”کھانے“کے بعد جی بھر کر سوتے ہیں۔موجودہ سیاسی ماحول کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ پوری قوم ہی پراٹھے کھا کر سوئی ہوئی ہے وہ بھی ”بھنگ“والے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International