rki.news
و پُھولوں کی رانی میں بَاغوں کا راجا
نہ رہ اتنی دُور، میرے باغ میں آ جا
اِن باغوں میں بھی پُھول کِھلتے ہیں
مہک لینے کے بہانے اِس باغ میں آ جا
تیرے دیدار کی خواہش ہے بہت
پھولوں کے بہانے اپنا دیدار کرا جا
چاہتا ہوں تجھے ہی میں دِل سے
تُو آ کر میرے دِل میں سَما جا
باتوں سے لگتا ہے کہ بُھوکی ہے تُو
میرے باغ میں آ اور کچھ کھا جا
تیری باتوں سے کچھ سمجھ نہ پایا
باغ میں آ کر تُو مجھے سمجھا جا
چاندنی راتوں میں تنہا نہ رہ
چاند بن کر تُو میرے پاس آ جا
پھولوں کی زبان کو جانتی ہے تُو
پھول بن کر تُو مجھے کچھ سنا جا
میرے خوابوں میں اکثر آتی ہے تُو
حقیقت میں بھی اپنا جلوہ دکھا جا
دل کے موسم کو خوشگوار کر دے
بہار بن کر تُو مجھ کو ہنسا جا
معلوم نہیں کہاں ہے تیرا ٹھکانا
میرے پاس آ اور اپنا پتہ بتا جا
کب تک رہے گی یوں پردے میں تُو
رخ سے پردہ ہٹا، مجھے اپنا بنا جا
تُو معین کی محفل میں آ کر بیٹھ
غور سے سُن کر اُس سےکچھ پا جا
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply