پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد میں شرکت، خدمات کے اعتراف میں تحائف یادگاری شیلڈ پیش
رہبر کسان ڈسک
دوحہ (رپورٹ: ہارون رشید قریشی)
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) قطر کے کنٹری منیجر ملک وقاص کے اعزاز میں ایک پُروقار الوداعی عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب گزشتہ شام جمعرات 9 اپریل کو دوحہ کے معروف نیو شانِ لاہور ریسٹورنٹ میں منعقد ہوئی جس میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس باوقار تقریب کو پاکستان بزنس کونسل قطر کی جانب سے اسپانسر کیا گیا جبکہ تقریب کے انعقاد میں کمیونٹی کے نمایاں رہنماؤں نے بھرپور کردار ادا کیا۔
تقریب کے انتظامات اور انعقاد میں سینئر کمیونٹی رہنما ریاض احمد بقالی نے کلیدی کردار ادا کیا جو قطر میں اپنی سماجی خدمات، کمیونٹی نمائندگی اور فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ پروگرام کا آغاز عتیق الرشید کی جانب سے تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد محفل میں ایک روحانی اور پُرسکون فضا قائم ہوگئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انور علی رانا (چیئرمین سوہنی دھرتی الخور) نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیے اور پورے پروگرام کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔
تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ قطر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مختلف مکاتبِ فکر، تنظیموں اور سیاسی وابستگیوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی چھت تلے جمع ہوئے اور انہوں نے ملک وقاص کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے اپنے اپنے انداز میں ملک وقاص کے ساتھ گزارے گئے تجربات اور یادوں کو بیان کیا اور ان کے کردار کو نہایت مثبت انداز میں اجاگر کیا۔
خطاب کرنے والوں میں ریاض احمد بقالی (سینئر کمیونٹی لیڈر)، عمر خیام (صدر سوہنی دھرتی الخور)، محمد نواز اکرم (پاکستان کمیونٹی ام سعید)، علی ذوالقرنین (پرنسپل برائٹ فیوچر انٹرنیشنل اسکول)، خفیظ اللہ (منیجر کمرشل بینک)، لیاقت ملک (لوکل صحافی)، عدیل اکبر (جنرل سیکرٹری پاکستان آرٹس کونسل)، قیصر انور (صدر پاکستان ویلفیئر فورم)، خرم اقبال (صدر پاکستانی انجینئرنگ فورم)، چوہدری محمد اجمل (لیڈر پاکستانی کمیونٹی) اور محمد اسرار ملازئی (صدر پاکستان بزنس کونسل قطر) شامل تھے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک وقاص نے بطور کنٹری منیجر پی آئی اے قطر نہ صرف ادارے کی نمائندگی بہترین انداز میں کی بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ قریبی روابط قائم کر کے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں قومی اداروں کے نمائندوں کا رویہ اور کردار اس ملک کی پہچان بن جاتا ہے اور ملک وقاص نے اپنی شائستگی، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا۔
مہمانِ خصوصی اسامہ ادریس (کمیونٹی ویلفیئر اتاشی، سفارتخانہ پاکستان) نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقاص کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے قطر میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بہترین روابط قائم کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افسران کسی بھی قومی ادارے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہیں بلکہ کمیونٹی کے ساتھ بھی مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔
اپنے الوداعی خطاب میں ملک وقاص نے دوحہ میں تقریباً تین سال اور دس ماہ کے قیام کو اپنی زندگی کا ایک یادگار اور قیمتی دور قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں پی آئی اے کی انتظامیہ کی ہدایت پر قطر بھیجا گیا تو وہ صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھ کر یہاں آئے تھے، لیکن یہاں آ کر انہیں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے بے پناہ محبت اور تعاون ملا جس نے ان کے قیام کو انتہائی خوشگوار بنا دیا۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ دوحہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے انہیں ہمیشہ اپنا سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ آج یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے ان کے دل میں خوشی کے ساتھ ساتھ اداسی بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود ہر چہرہ ان کے لیے ایک یادگار ہے اور ان کے ساتھ گزارا گیا وقت ہمیشہ ان کی یادوں کا حصہ رہے گا۔
ملک وقاص نے اپنے خطاب میں پی آئی اے دوحہ آفس کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قطر جیسے ملک میں جہاں عالمی معیار کی ایئرلائنز موجود ہوں وہاں مقابلہ کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس وقت پی آئی اے کی قطر پاکستان کے لیے ہفتہ وار صرف تین پروازیں تھیں اور دوحہ آفس کو کئی مسائل کا سامنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر سب سے پہلے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی کیونکہ ان کے نزدیک کسی بھی ایئرلائن کی کامیابی کا دارومدار صرف جدید جہازوں پر نہیں بلکہ مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، صفائی، نظم و ضبط اور بہتر سروس پر ہوتا ہے۔
ملک وقاص نے کہا کہ پی آئی اے کا قطر آفس دراصل پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے اور یہاں آنے والا ہر شخص پاکستان کے بارے میں ایک تاثر لے کر جاتا ہے، اس لیے انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ آفس کا ماحول دوستانہ اور پیشہ ورانہ ہو اور یہاں آنے والے ہر فرد کو عزت اور احترام کے ساتھ خدمات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں پی آئی اے اور کمیونٹی کے درمیان رابطہ کچھ کمزور تھا لیکن انہوں نے ذاتی طور پر لوگوں سے ملاقاتیں کیں، مختلف کمیونٹی تقریبات میں شرکت کی اور کمیونٹی کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے تعاون اور ٹیم ورک کی بدولت پی آئی اے نہ صرف اپنے مسافروں کی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی بلکہ پاکستان کے لیے پروازوں کی تعداد تین سے بڑھ کر دس تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا مکمل طور پر پاکستانی کمیونٹی اور اپنی ٹیم کے سر باندھا۔
تقریب کے دوران کمیونٹی ممبران نے ملک وقاص کے ساتھ محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خصوصی تحائف پیش کیے جبکہ پاکستان بزنس کونسل قطر کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایک یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
اس موقع پر انور علی رانا نے نیو شانِ لاہور ریسٹورنٹ کے مالک اقبال بٹ کا بہترین انتظامات اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا جبکہ ریسٹورنٹ کی جانب سے مہمانوں کی پرتکلف پاکستانی کھانوں سے تواضع کی گئی جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔
تقریب کے اختتام پر سیف ہاشمی نے تمام مہمانوں کو خوشبوؤں کے تحائف پیش کیے۔ یوں محبت، خلوص اور یادگار لمحات سے بھرپور یہ باوقار شام خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
Leave a Reply