rki.news
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
مہرو نے جونہی کمرے سے باہر قدم نکالا اسے شدید قسم کا چکر آ گیا، اس کے بازو پہ لگا ہوا سنسر بجنے لگا. اس نے ڈایل پہ نظر ڈالی تو اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گءی اس کی شوگر خطرناک حد تک کم تھی، اس نے گرتے پڑتے جوس تک رسای حاصل کی اور نیم بے ہوشی میں جوس پینے کی کوشش میں لگ گءی، وہ حسین چہرے، خوبصورت دل اور کشادہ سوچ والی وہ حسینہ تھی جو پیدایشی شوگر کے ساتھ پیدا ہوی تھی، جب پہلی مرتبہ اس کی ماں کو اس مسلے کا پتا چلا، تو اس کی نیندیں اگلے کءی مہینوں تک اڑ گءی تھیں، مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ اگر خوشی کے پل نہیں تھمتے تو غم کے سوگوار پل بھی گزر ہی جاتے ہیں ، ایسا ہی کچھ یہاں بھی ہوا تھا، مہرو پہ اللہ کا کوئی خاص کرم تھا، اس کے اس پیدایشی نقص کا ہونا یہ ہونا تقریباً برابر ہی تھا وہ ہنستی کھیلتی،پڑھتی لکھتی، اچھے نمبروں سے پاس ہوتی سکول سے کالج جا پہنچی، اس نے اپنی اس پیدایشی شوگر کو اللہ کی رضا سمجھ کے اپنے روز و شب میں شامل کر لیا تھا. کسی شاعر نے اسی حسن دلربا کے بارے میں کیا خوب کہا.
چندا بیٹری سیل سے چلنے والی اک سندر لڑکی کی کتھا
وہ اتنی سندر ہے کہ واقعی میں چاند اسے دیکھ کے شرما جاتا ہے
کالی سیاہ، گھٹاوں جیسے لہریے بال
نشیلی خوابیدہ آنکھیں
صراحی دار گردن
نکلتا ہوا قد
چال ہرنی سی
دانت موتی سے
مسکراہٹ جیسے گاتا ہوا جھرنا
مگر
یہ حسن دل پذیر
انسولین نامی سیل کے سنگ سانسیں لیتا ہے
پتری کا روگ، ماں کے دل پہ کاری وار ہے
اور
چندا بیٹری سیل سے چلنے والی لڑکی کو کون یہ سمجھاے
کہ جب سانسوں کی آنی جانی میں پھیپھڑے، آکسیجن کو مکمل طور پر جذب کر لیں گے
جب بوسیدہ جھونپڑیوں میں بھکاری، پیٹ کی بھوک اور بھوکے پیٹ کی اذیت سے مکمل طور پر چھٹکارا پا لیں گے
اور
جب یتیموں کے چھنے ہوے حقوق، انھیں عزت سے لوٹا دیے جائیں گے
اور جب گمشدہ اکلوتا بیٹا، باپ کی چشم بینا بن کر گھر واپس لوٹ آے گا
اور جب دنیا سے چھینا چھپٹی ختم اور امن کی جے جے کار ہوگی
اور جب ماوں کے پوتر شکم سے شاہکار جنم لیں گے
اور جب اونچ نیچ کا فیصلہ ہن کے کھنکھتے سکوں کی بجاے، انسانی شرافت کی بنا پہ ہو گا.
اور جب انسانی جبلت سے، میں، نامی غرور فنا ہو جاے گا
اس وقت پہ ماں کے سینے پہ یہ معمولی سوی نشتر جیسا کاری وار ہی ہو گی
ماں انسولین پہ سانسیں لیتی گڑیا کا دکھ بھول نہ پاے گی
اور اس پر خلوص حسن دلربا کو بیچ منجدھار میں چھوڑنے والوں کے کاسے سدا ہی خالی رہیں گے
کیا ہوا جو چندا بیٹری سیل سے چلنے والی سندری کے گال دمکتے ہیں، گلنار ہیں؟
رنگ شہابی ہیں اور چہرے پہ حسن کی لالی ہے
ماں کا دکھ کیسے کم ہو سکتا ہے
اے چندا بیٹری سیل سے چلنے والی گڑیا
تیرے تو خلوص کو ہی دھتکار دیا گیا
تجھے تو تیری وفا کے سنگ ہی وار دیا گیا
اس نے چاند کی شبیہہ سے کہا میرے سنگ چلو، سفر لمبا اور تھکا دینے والا ہے، یہی ذرا چاند کے پار چلنا، شبیہہ جو سارے میں اپنی نیک نامی اور پرہیز گاری کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی تھی نے بنا کسی جھجھک گڑیا سے تحائف وصولے، خوشیوں کے کءی پل چراے اور حسب معمول جب اس کا دل بھر گیا تو وہی لولے لنگڑے جواز
ہم ای دوسرے سے مختلف ہیں
ہمارے بیچ میں عمر کا واضح فرق ہے
ہم اپنے خاندان کے علاوہ کہیں باہر رشتہ داریاں بناتے نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ ٧.
اپنی پرہیز گاری کی اتنی لمبی مالا جپنے کے بعد چاند کی شبیہ غایب ہو چکی تھی یہ دیکھے بغیر کہ چندا بیٹری سیل سے چلنے والی لڑکی کی بیٹری چلتے چلتے ہی رک چکی تھی.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com
Leave a Reply