rki.news
(تحریر احسن انصاری)
ڈاکٹر رتھ فاؤ ایک جرمن نژاد خاتون تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ستاون قیمتی سال پاکستان میں جذام جیسے مہلک اور سماجی طور پر نفرت کا شکار مرض کے خلاف جدوجہد میں گزار دیے۔ ان کی زندگی انسانیت، ہمدردی اور بے لوث خدمت کی ایسی مثال ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت اور روشنی برقرار رکھتی ہے۔ وہ اس حقیقت کی جیتی جاگتی تصویر تھیں کہ انسانیت کی خدمت کے لیے نہ سرحدیں معنی رکھتی ہیں اور نہ ہی قومیت۔
1960 کی دہائی میں بی بی سی لندن پر نشر ہونے والی ایک ڈاکومنٹری نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اس ڈاکومنٹری میں پاکستان میں جذام کے مریضوں کی اذیت ناک زندگی دکھائی گئی تھی، جہاں اس بیماری کو عذابِ الٰہی سمجھا جاتا تھا اور مریضوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جاتا تھا۔ یہ مناظر ایک تیس سالہ نوجوان اور پیشہ ور ڈاکٹر کے دل میں ایسا درد بن کر اترے کہ انہوں نے آرام دہ یورپی زندگی ترک کرنے اور پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔
1960 میں وہ ایک عیسائی مشنری تنظیم کے تحت کراچی پہنچیں۔ اس وقت شہر میں آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب جذام کے مریضوں کے لیے ایک مخصوص جگہ بنائی گئی تھی، جہاں انہیں انسانی بستیوں سے دور رکھا جاتا تھا۔ لوگ دیوار کے باہر سے روٹیاں پھینک دیتے مگر کوئی ان کے قریب جانے کو تیار نہ ہوتا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اسی ماحول میں ایک جھونپڑی میں اپنا کلینک قائم کیا اور مریضوں کے درمیان رہتے ہوئے ان کا علاج شروع کیا۔ وہ خود ان کے زخم صاف کرتیں، مرہم پٹی کرتیں، ان سے بات کرتیں اور انہیں یہ احساس دلاتیں کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ کے لیے سب سے مشکل مرحلہ بیماری نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ بدلنا تھا۔ تقریباً تین سال انہیں یہ سمجھانے میں لگے کہ جذام کوئی آسمانی عذاب نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ 1963 میں ان کی مسلسل جدوجہد رنگ لائی اور ڈاکٹر آئی کے گُل سمیت دیگر طبی عملہ ان کے ساتھ شامل ہو گیا، جبکہ نرسوں کی ایک ٹیم بھی تیار ہو گئی۔ یوں ایک اکیلی عورت کا شروع کیا ہوا مشن ایک منظم قافلے میں تبدیل ہونے لگا۔
مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ایک بڑے اور مستقل ادارے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 1963 میں اس منصوبے کا تخمینہ تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ اس مقصد کے لیے دوبارہ جرمنی گئیں، اپنی قوم کے سامنے پاکستان میں جذام کے مریضوں کی حالت بیان کی اور چندہ جمع کر کے واپس لوٹیں۔ ان کی محنت اور خلوص کے نتیجے میں 1965 میں میری ایڈ لیپریسی سینٹر قائم ہوا، جو جلد ہی پورے ملک میں جذام کے خلاف جدوجہد کا مرکز بن گیا۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اس ادارے اور اس میں آنے والے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ بڑے طبی عملے کے باوجود وہ خود مریضوں کے درمیان رہتیں اور پاکستان کے دور دراز علاقوں تک جا کر جذام کے مریضوں کی تلاش اور علاج کرتیں۔ ان کی انتھک محنت، درست حکمتِ عملی اور مسلسل نگرانی کے نتیجے میں 1996 میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دے دیا۔ اس طرح پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بنا جو اس مہلک مرض سے نجات پانے میں کامیاب ہوا۔
اگرچہ ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمن شہری تھیں، مگر ان کی خدمات نے انہیں پاکستانی قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ دے دی۔ 1990 میں انہیں پاکستانی شہریت عطا کی گئی اور ہلالِ پاکستان، ہلالِ امتیاز، ستارہ قائداعظم اور نشانِ قائداعظم جیسے اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ اس سب کے باوجود ان کی زندگی نہایت سادہ رہی۔ انہوں نے شادی نہیں کی اور ایک چھوٹے سے کمرے میں زندگی گزاری جہاں ایک چارپائی، پانی کا کولر اور چند کتابیں ہی ان کی کل متاع تھیں۔
10 اگست 2017 کو یہ عظیم خاتون اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا اور 19 اگست کو سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر ملک کی اعلیٰ شخصیات، مریض، شاگرد اور عقیدت مند اشک بار آنکھوں سے انہیں الوداع کہہ رہے تھے۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی زندگی اس امر کی روشن مثال ہے کہ اصل عظمت دولت، شہرت یا اقتدار میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہے، اور وہ ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں محبت، قربانی اور شفاء کی علامت کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
Leave a Reply