Today ePaper
Rahbar e Kisan International

کانکی نارہ حمایت الغربا ہائی اسکول کا86 واں یوم تاسیس

Articles , / Friday, January 30th, 2026

rki.news

یاد ہر سال آئیں گے قادر
آپ جیسے یقیناً ہیں نادر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم:
احمد وکیل علیمی
دوردرشن کولکاتا
مادہ پرستی کے اس دور میں آج تقریباً لوگ فقط ” اپنے لیے” جینے کا خوگر ہوگئے ہیں۔باہمی تعاون، افہام و تفہیم، مساعدت ، رفاہیت اور اخوّت جیسی متصف اور متوکّل شخصیتیں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوچکی ہیں۔ معاون بننے، دوسرے کا دُکھ بانٹنے اور اس سے بھی بالاتر ہوکر اس کے لیے سینہ سپر ہوجانے اور جان قربان کرنے لے لیےانسانی لغت میں اگر کسی رشتے کا حوالہ دیا جا سکتا ہے تو بھائی کا رشتہ ہے۔ قرآن وحدیث میں مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کہا گیا ہے۔اس کی روشنی میں ان کے باہمی رشتے کی گہرائی اور قرابت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سورہ حجرات میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
ترجمہ: ” مسلمان جو ہیں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔”(الحجرات10)
غور کیاجائے تو بات مسلمانوں کی ہےلیکن
یہ حکیم عبد القادر کی ہی شخصیت تھی جنہوں نے
نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ” برادرانِ اسلام” کو بھی اپنا بنا کر اور حمایت الغربا ہائی اسکول کی بنیاد ڈال کراخوت کی بہترین و بے نظیر مثال پیش کرتے ہوئےگنگا، جمنی تہذیب کی ایسی تعلیمی قندیل روشن کی جو شمع فروزاں بن کر تاقیامت ایک بندۀ مومن کی رواداری کی ناقابل فراموش مثال بنی رہے گی۔ نازاں و فرحاں ہوں کہ اسکول کےبانی حکیم عبد القادر (مرحوم) کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اسکول 86واں یومِ تاسیس منارہا ہے۔ ایسے فرقہ ورانہ ، متعصبانہ اور افتراق آمیز حالات میں حکیم قادر صاحب کی سعئِ مشکور کو سلام کرتے ہوئے ان کی نذر یہ شعر لکھنے کے لیے دل بے تاب ہے کہ
سلام ان کو جو چھائے ہوئے ہیں صدیوں پر
گریز ان سے جو لمحوں میں ڈوب جاتے ہیں
ہماری سیکولر ذہنیت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ مسلمان کل بھی سب کو ساتھ لے کر جینا چاہتا تھا اور آج بھی ہم سے بڑے سیکولر ذہن اور علمبردارِ اخوت کی مثال نہیں ملتی۔ اسکول قائم کرنے کا عمل حکیم صاحب اور ان کے رفقاء کے لیے صدقۀ جاریہ میں شمار ہوگا۔ فی زمانہ تعمیری اقدام و فکر پر جمود طاری ہے۔ ہم کو زمانہ یا معاشرہ اسی وقت تادیر یادگاربنا کر پیش کرتا رہے گا جب ہم بھی معاشرے کے لیے عملی نمونہ چھوڑ کر رختِ سفر باندھیں گے۔ مزدوروں کی بستی میں تعلیم و تعلم کی شمع جلانا ناقابل فراموش تعمیری کام ہے۔ معاشرے کی بنیادی ضرورتوں پر اب ہماری نگاہ نہیں ہے۔ 1928 میں حکیم عبد القادر نے کانکی نارہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا تو ان کو علاقے میں تعلیم کی کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ تعلیمی ماحول کی بنیاد ڈالنا چاہتے تھے۔ پہلے انہوں نے ایک مدرسے کی داغ بیل ڈال کر تعلیمی روح پھونکنے کی دانش مندانہ اور دور اندیشانہ کوشش کی۔جناب محمد اسمٰعیل میاں، ماسٹر سرفراز احمد کے والد محترم نور محمد صاحب عرف کھیساری میاں کی ملّت نوازی کو بھی تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم ایک روشنی ہے اس لیے ” مدرسے” کو اسکول کی حیثیت بھی حاصل ہوگئی۔ اسکول کانام کانکی نارہ حمایت الغربا ء رکھا گیا۔ تعلیمی رجحانات کو تقویت حاصل ہوئی تو یہ اسکول مڈل ہائی اسکول بن گیا۔ اس کے بعد اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ بھی حاصل ہوا۔ آج یہ اسکول گنگا جمنی تہذیب کی عظیم الشان مثال بن گیا ہے۔آج کانکی نارہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ
ایک ذرّہ حقیر تھا پہلے
تیری نسبت سے آفتاب ہوا
ایسی شخصیات نسل نو کے لیے باعثِ تکریم ہیں تو موجبِ ترغیب بھی ہیں۔ حکیم عبد القادر ایوارڈ سلسلہ بننا چاہیے تھا۔ اب تک کسی ادارے، تنظیم یا سیاسی شخصیت کی جانب سے حکیم عبد القادر ایوارڈ کا سلسلہ شروع نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح کی روایت ہونے سے اسکول کے بانی حیکم عبد القادر اور اسکول کی تعمیر میں شامل رفقاء کی خدمات کو خراج ادا کیا جا سکتا ہے۔ میری ناقص رائے میں ہرسال اسکول فنڈ سے ایکزامس میں غیر معمولی کارکردگی پیش کرنے والے اسٹوڈنٹس کو حکیم عبد القادر ایوارڈ سے نوازنے کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ اس قدر عظیم خدمات پیش کرنےوالے کو خراج پیش کرنے کی کوئی سبیل نکال جانی چاہیے۔ فی زمانہ سیاست نے تعمیری سماجی خدمات انجام دینے کا کام بند کردیا ہے۔
حکیم عبدالقادر نے جس زمانے میں اسکول قائم کرنے کا خواب دیکھاتھا، وہ فرنگیوں کا زمانہ تھا۔ شب وروز گزارنا مشکل تھا۔ ایسے ناموافق حالات میں اسکول قائم کرنے کےخواب کی تعبیر ڈھونڈنا آسان نہیں تھا۔ 1935 میں جب انگریزی سرکار کا ظلم و عتاب شباب پر تھا ، پھر بھی حکیم صاحب کو اپنے رفقاء کے آہنی اردوں پر بھروسہ تھا۔ چوں کہ پہلے مدرسہ تھا اسی مدرسے کے دوسرے معلم صدر انجمن پرائری اسکول کے ٹیچر ابوالقاسم انصاری کے والد محترم ماسٹر حسام الدین ہوا کرتے تھے۔یہی مدرسہ کانکی نارہ حمایت الغربا اسکول کے نام سے مشہور ہوا۔
آج اسکول کے بانی کو یاد کرنے اور ان کے حق میں دعا کی جائے گی۔ اِسی اسکول کی رہینِ منّت احمد وکیل علیمی کو تعلیم کا راہ راہ پیما بننا نصیب ہوا۔ اللہ اسکول کی تعمیر میں معاونین کی بھی مغفرت کرے اور تعلیم گاہ قائم کرنے کے بدلے اُن کو غریقِ رحمت کرتے ہوئے ان کی مکمل مغفرت کرے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International