rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
کرنسی کی اہمیت
کرنسی کی ایجادبہترین اورمفید ایجاد ہے۔موجودہ دور میں کرنسی کی اہمیت بہت ہی بڑھ چکی ہے۔اگر کسی کے پاس کرنسی زیادہ ہے تو وہ امیر ہےاور کرنسی کی کمی غربت کی علامت ہوتی ہے۔کرنسی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی موجودگی بہت سے مسائل حل کر دیتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ پیسہ سب کچھ نہیں،لیکن بہت سی حاجات پیسے سے پوری ہوتی ہیں۔ماضی بعید میں جب انسانی آبادی بڑھنا شروع ہوئی تو لین دین کی ضرورت محسوس ہوئی۔پہلے پہل بارٹر سسٹم وجود میں آیا۔لیکن اس سسٹم میں بہت سی خامیاں موجود تھیں،کیونکہ اس قسم کے لین دین یا تجارت میں بہت سی پیچیدگیاں تھیں۔مثال کے طور پر ایک فرد بکری خریدنا چاہتا ہے،لیکن اس کے پاس ادائیگی کے لیے اناج موجود ہے۔اب یہیں پیچیدگی شروع ہو جاتی،کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ بکری خریدنے والے کے پاس اتنا اناج موجود نہ ہو جتنی بکری کی قیمت ہے۔بہرحال تجارتی لین دین ہوتا رہا۔پہلے پہل سونا،چاندی،نمک،جانوروں کی کھالیں اور اس طرح کی کچھ چیزوں کولین دین میں استعمال کیا جاتا تھا۔سونا اور چاندی کے سکےبھی بنائے گئےاور اس طرح لین دین میں آسانی شروع ہو گئی۔بعد میں کاغذی کرنسی کو ایجاد کر لیا گیا اور کاغذی کرنسی کے ذریعےخریداری میں آسانی ہو گئی۔موجودہ دور میں کچھ کرنسیاں قیمت کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں اور کچھ کرنسیاں بہت ہی کم قیمتی ہیں۔پہلے پہل سونےیا قیمتی دھاتوں کے بدلےایک رسید جاری کر دی جاتی تھی اور وہ رسید سونا یا قیمتی دھاتوں کے برابر ویلیو رکھتی تھی۔بعد میں تمام ممالک نےکرنسی چھاپنا شروع کر دی۔پہلےاس بات کی گارنٹی دی جاتی تھی کہ جو ملک کرنسی چھاپ رہا ہے اس کےپاس اس کی قیمت کے برابرسونا موجود ہےاور کرنسی کے بدلے سونےکی ادائیگی کر سکتا ہے،لیکن اب سونے کےاتنےذخائر موجود نہیں ہوتے لیکن پھر بھی کرنسی چھاپی جا رہی ہے۔
۔موجودہ کرنسیوں میں مضبوط کرنسی امریکی ڈالر ہے۔کچھ ممالک کی کرنسی ویلیوکےلحاظ سےزیادہ قیمتی ہے،لیکن ڈالر کی اجارہ داری چھائی ہوئی ہے۔طاقت کے زور پر امریکی ڈالر عالمی طور پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ڈالر کی ویلیو بڑھنا شروع ہوئی۔دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد یورپ تباہ حال ہو چکا تھا۔امریکہ نے بھی جنگ عظیم دوم میں حصہ لیا تھا،لیکن اس کانقصان کم ہوااور یورپ کے مقابلے میں معاشی لحاظ سے مضبوط تھا۔امریکہ اور یورپی ممالک کے نمائندوں کے درمیان میٹنگ ہوئی۔امریکہ یورپی ممالک کےنمائیدوں سے یہ بات منوانے میں کامیاب ہوگیا کہ ڈالر کو بین الاقوامی تجارت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔دوسرے ممالک کے نمائندگان چاہتے تھے کہ دوسری کرنسیوں کو بھی تجارت کے طور پر استعمال کیا جائے،لیکن کمزور پوزیشن ہونے کی وجہ سےوہ کامیاب نہ ہو سکے۔ڈالر کی اجارہ داری کاخاتمہ کرنے کے لیےچین اور کچھ دوسرے ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ ڈالر کےعلاوہ دوسری کرنسیاں بھی بین الاقوامی تجارت میں استعمال ہوں۔ابھی تک ڈالر بین الاقوامی مارکیٹ میں چھایا ہوا ہے۔بین الاقوامی منڈیوں میں ڈالر کوقابل بھروسہ کرنسی سمجھا جاتا ہے۔ڈالر کی اجارہ داری کئی کمزور ممالک کی معیشتوں کو بحران کا شکار کر رہی ہے۔یورو بھی ڈالر کے بعد اپنی اہمیت منوا چکا ہے لیکن پھر بھی ڈالر سے کئی گنا پیچھے ہے۔امریکی ڈالر دنیا کی مضبوط کرنسی بنی ہوئی ہے،لیکن اب کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں بھی اس کی اجارہ داری قائم رہے۔کئی کمزور ممالک اپنی کرنسیوں کی ویلیو گرا رہے ہیں اور وہ اس لیےگرا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف اور امریکہ کی منشا یہی ہے۔کرنسی کی ویلیو گرانے سے مہنگائی میں بھی اضاف ہو جاتا ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھ چکی ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ایک چیز کی قیمت ڈالرز میں ادا کرنی ہےاور ڈالر کے مقابلے میں دوسری کرنسی کی ویلیو کم ہوتی ہےتوخود بخود ہی اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
کاغذی کرنسی کی اہمیت اس وقت تک رہتی ہے جب وہ خرید و فروخت میں قابل قبول ہو۔ڈالر ہو یا کوئی اور کرنسی،اگر اپنی اہمیت کھو دیتی ہےتو وہ محض کاغذ کے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔اس بات کو اس مثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک لاکھ روپےکےکرنسی کےنوٹ ہوں اوروہ نوٹ اپنی اہمیت کھو دیں تو وہ صرف کاغذ کے ٹکڑے ہی ہوں گے۔اب الیکٹرانک نظام بھی متعارف ہو رہا ہے،بلکہ وہ اپنےپاؤں جما چکا ہے۔اب لین دین ہندسوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔دنیا کے تمام ممالک اپنی کرنسیاں الیکٹرانک ہندسوں پر منتقل کر رہے ہیں۔اب اگر ایک لاکھ روپے کے نوٹ ہندسوں کی صورت میں آپ کے موبائل اکاؤنٹ میں موجود ہوں یا بینک اکاؤنٹ میں رقم موجود ہو،آپ آسانی سے کسی دوسرے اکاؤنٹ میں ہندسوں کی صورت میں رقم منتقل کر سکتے ہیں۔بعض ماہرین اس بات کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ ہوسکتاہے،مستقبل میں کاغذی کرنسی اپنا وجود کھو دے،کیونکہ اس کے متبادل ہندسوں کی صورت میں الیکٹرانک کرنسی زیادہ آاسان اور فائدہ مند ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہےکہ مستقبل میں پوری دنیا میں ایک ہی قسم کی کرنسی استعمال ہونا شروع ہو جائے۔ڈالر کی اجارہ داری اگر عالمی طور پر کمزور ہو جائے یا ختم ہو جائے،تو کمزور اور غریب ممالک اپنی اقتصادی حالت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔کرنسی کی ویلیو پر جھگڑے بھی ہو سکتے ہیں،کیونکہ طاقتور کرنسیوں والے نہیں چاہیں گے کہ کمزور ممالک کی کرنسیاں بھی ان کے مد مقابل آجائیں۔دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہےکہ کمزور ممالک اپنے حق کے لیےاٹھ کھڑے ہوں،یوں یہ مسئلہ انتشار کی طرف بڑھ سکتا ہے۔امریکی ڈالر اگر بین الاقوامی تجارت میں اپنی وقعت کھو دےتو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ معاشی لحاظ سے کمزور ممالک مقامی کرنسیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے تجارتی تعلقات بڑھا دیں اور اس طرح ان کی معیشتیں مضبوط ہو سکتی ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہندسوں کی کرنسی کچھ عرصہ کے بعد قابل قبول نہ رہے۔عالمی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہےکہ کمزور ممالک کی کرنسیوں کی بھی ویلیو بڑھائی جائے۔کچھ ممالک زیادہ کرنسی پیدا کر کے،کرنسی کی ویلیو گرا دیتے ہیں۔زیادہ کرنسی کا چھاپنا بھی نقصان دہ ہے۔جب تک کرنسی چل رہی ہے،اس کی ویلیو رہے گی اور اگر یہ چلنا رک جائے تو یہ صرف ردی ٹکڑوں میں تبدیل ہو جائے گی۔ کاغذی کرنسی اپنی قدر کھو دےاور الیکٹرانکس کرنسی بھی اپنی ویلیو ختم کرچکےتو اس بات کا امکان بڑھ جائے گا کہ سونا یا دوسری دھاتوں کے سکےکرنسی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونا شروع ہو جائیں،لیکن اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ دنیاکی بڑھتی آبادی کی وجہ سے اس نظام کی گنجائش نہیں ہوگی کیونکہ سونا یا قیمتی دھاتوں کےذخائرکم پڑجائیں گے۔بہرحال کاغذی کرنسی آسانی سے استعمال ہو رہی ہےاور یہ طریقہ کچھ محفوظ بھی ہے۔سونے کے بھاری سکے یا دوسری دھاتوں کے سکے،ایک تو زیادہ وزن رکھتے ہیں اور دوم یہ ضائع یا چوری ہو سکتے ہیں۔کئی ممالک جن کےپاس سونا یا دوسری دھاتیں موجود نہیں ہیں تووہ بدترین پریشانیوں میں گھر جائیں گے۔بہرحال یہ بھی کئی طاقتیں کوششیں کر رہی ہیں کہ ڈالر کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا جائےاوراس طرح امریکہ جیسی سپر پاور کا زور توڑا جا سکتا ہے۔
Leave a Reply