کچھ خیال بوجھل سے
ذہن میں یوں آتے ہیں
ڈار کے پرندے جوں
شام کے دھندلکے میں
گھونسلوں میں آتے ہی
تھک کے لیٹ جاتے ہیں
صبح پَو کے پھٹتے ہی
گھونسلوں سے اُڑ جائیں
اور ہوا کے جھونکوں سے
کون سمت مُڑ جائیں
کس نے یاد رکھنا ہے
کس نے بھول جانا ہے
آج کس پہ کیا گزری
کل کسے بچھڑنا ہے
کوئی کیسے سمجھائے
کس کی کیا طبیعت ہے
کس کی کیسی خصلت ہے
اُن دلوں کی کیفیّت
ہجر میں جو جلتے ہیں
وصل کو ترستے ہیں
ہیں سماج کے بندھن
اپنے قرب کے دشمن
یہ ، سوا بچھڑنے کے
راستہ نہ چھوڑیں گے
یوں ہی کب تلک جینا
زہر ، ہجر کا پینا
چار دن حیاتی کے
ساتھ میں گزر جائیں
ورنہ ہاتھ ، ہاتھوں میں
لے کے آؤ ، مر جائیں ۔۔۔۔
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply