Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

کورٹ مارشل

Articles , Snippets , / Monday, January 5th, 2026

rki.news

تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل

ادایں، ادایں اور صرف ادایں، حسن خدادا تو کہیں بیچ میں ہی رہ گیا تھا،اور ان اداوں کے چھو منتر نے ساری دنیا کو اپنے پیچھے لگا ‘. رکھاتھا، فیشن اور اداوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا، اداوں نے فیشن انڈسٹری کے مول اتنے بڑھا رکھے تھے کہ فیشن انڈسٹری اپنے مہنگے داموں اور اونچی شان پہ اتراتی پھرتی تھی، اوریہ دام ہر انڈسٹری سے بڑھ کر تھے،تو فیشن انڈسٹری بالکل اس بہو کی طرح تھی جو ساری بہووں سے بڑھ کر جہیز لاتی ہے اور پوری سسرال اس کے جوتے کی نوک پہ ہوتی ہے، اس کے اشاروں پہ ناچنا سسرالیوں کے لیے اعزاز ہوتا ہے، کچھ ایسا ہی مزاج اور حال اس اداوں کی فیشن نگری کا بھی تھا، یہ فیشن نگری، سوشل میڈیا کا انسٹا گرام تھی، جہاں کپڑے اتنے مختصر کہ بدن کی سلطنت خواہ مخواہ ہی برہنہ ہو کے دعوت نظارہ دیتی پھرے اور حسن دلربا کی پذیرائی کو لوازمات اتنے کہ عام بندہ سوچ کے ہی بے ہوش ہو جاے،
کہ کونسا زیور پہنا جاے اور کسے، کسی اگلے موقعے کے لیے سنبھال لیا جاے. کبھی پایل کی چھن چھن تو کبھی لونگ کے لشکارے، کبھی غازے کی کشش تو کبھی لپ اسٹک کے نظارے، صرف ادایں ہی نہیں فضاوں پہ بھی اس انڈسٹری کا راج تھا،مرد کو پلو سے باندھنے کے لیے کسی نازنین کا ایک ہی جملہ بہت کافی تھا کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ میں تمہیں حسین تر دکھوں، اب اس میں تو کوی شک و شبہ نہیں کہ ہر مرد اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی عورت کو اپنی. ملکیت ہی نہیں سمجھتا بلکہ اسے ملکہ حسن دیکھنا بھی عین عبادت سمجھتا ہے، خوبصورت عورتوں کو دیکھ کے سبحان اللہ کی گردان تو آپ نے بڑے بڑے مذہبی دانشوروں، عالموں کے منہ سے سنی ہی ہو گی حالاں کہ عورت کو پردے کے ساتھ ساتھ مرد کو بھی اپنی نظر کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، صرف پہلی نظر ہی کی معافی ہے جناب، باقی کی تمام نظروں اور حرکات و سکنات کی پوچھ ہے . اور مردوں کی حسن پرستی کا تو پوچھیے ہی مت، خود بھلے بد صورت یا معمولی شکل و صورت کے ہوں، دولہن یا محبوبہ انھیں مس ورلڈ ہی چاہیے ہوتی ہے، سختی سے ہی نہیں بلکہ حسین تر دیکھنا بھی چاہتا ہے، تو اس ڈیپارٹمنٹل سٹور میں میجر احتشام نے جونہی قدم رکھا، ایک الٹرا ماڈ حسینہ جو کسی اپسرا کی طرح پورے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں نجانے کس شے کی تلاش میں ادھر سے ادھر چکراتی پھر رہی تھی، جانے یا انجانے میں میجر احتشام سے آ ٹکرای، میجر ایک پینڈو جوان، غریب والدین کی اولاد جو ٹاٹ پہ بیٹھ کے سرکاروں سکولوں، کالجوں سے ہوتا ہوا سینکڑوں دھکے کھا کے آرمی میں کمیشن لینے کے قابل ہوا،کہاں آرمی کی تھکا اور اکتا دینے والی ٹرییننگ اور کہاں، کینٹ کی آرام دہ زندگانی، کیپٹن احتشام کو لگا زندگی اتنی پرسکون ہو گءی ہے کہ مانو وہ پل صراط کو عبور کر کے جنت میں آچکا ہے مگر یہ محض اس بیچارے کی خام خیالی ہی تھی، جب اس نے الٹرا ماڈرن، لشکارے مارتی،بنی ٹھنی ہادیہ نور کو چھ انچ کی پنسل ہیل میں ڈیپارٹمنٹل سٹور کے چکنے فرش پہ کسی رقاصہ کی مانند تھر تھراتے ہوے دیکھا تو وہ ہو و حواس کے ساتھ ساتھ اپنا دل بھی اس صندلی حسینہ پہ ہار بیٹھا، حسینہ کا دل لالچ کی ایک گہری کھای تھا، وہ بھرتے بھرتے میجر احتشام سے اتنا شدید جرم سرزد ہو گیا جس کا اختتام میجر صاحب کے کورٹ مارشل پہ ہی ہوا، میجر کی بوڑھی ماں جنم جلی بہو کو کوسنے دیتی ہوی قبر کے اندھیروں میں اتر گءی، میجر صاحب ہارٹ اٹیک کے بعد صرف بستر کے ہو گیے،ادھیڑ عمر حسینہ کی عمر اس کی ادایں چھپا لیتی تھیں وہ کسی اور کا کورٹ مارشل کروانے کے لیے پھر سے نک سک تیار تھیں.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International