rki.news
بادشاہ وقت نے کھانے کی ٹیبل پہ اپنی بڑی بیٹی سے سوال کیا, بیٹی تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو, بیٹی بولی چینی کی مٹھاس جتنا. باپ نے منجھلی بیٹی سے سوال پوچھا بیٹیا تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو? بیٹی بولی شہد کی مٹھاس جتنا. بادشاہ اپنی بیٹیوں کے محبت بھرے میٹھے میٹھے جوابات سے بہت خوش تھا پھر اس نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی سے سوال کیا بیٹیا تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو زیرک اور دور اندیش بیٹی نے بڑے اطمینان اور اعتماد سے جواب دیا, بابا میں آپ سے اتنا زیادہ پیار کرتی ہوں جتنا پیارکوئی نمک سے کرتا ہے، اتنے میٹھے میٹھے جواب سننے کے بعد بادشاہ کی خوشگوار طبیعت کو یہ سوال بہت ہی ناگوار گزرا، بادشاہ نے غصے میں آ کر بیٹی کو محل بدر کر دیا. وقت نے کروٹ لی، محلوں والے جھونپڑی میں آ گیے اور جھونپڑی والے تخت نشین ہو گیے.
زیرک شہزادی نے اپنے باپ اور بڑی بہنوں کو شاہی دعوت پہ بلایا اور تمام ٹیبل کو انواع و اقسام کے میٹھے پکوانوں سے سجا دیا. بادشاہ اور اس کی بیٹیوں نے باقاعدہ تمام ہی کھانوں کے میٹھے ہونے پہ اعتراض کیا اور نمکین کھانوں کی فرمائش کی، اب شہزادی نے اپنی نقاب سرکای تو بادشاہ اپنی بیٹی اور شہزادیاں اپنی بہن کو دیکھ کر ہکا بکا ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ، جی بھر کے شرمندہ بھی ہویں، گویا ایک نسل نے اپنی زندگی گنوا دی ایک پتے کی بات اپنے بزرگوں کو سمجھانے میں یعنی بادشاہ حضور کو یہ باور کروانے میں کہ نمک بلا شرکت غیرے ہماری زندگی اور ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہی نہیں، اٹوٹ انگ بھی ہے. بادشاہ اپنی بیٹی اور شہزادیاں اپنی بہن کے گلے لگ کر جی بھر کے روتی رہیں مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گءیں کھیت. لیکن میرا ماننا ہے کہ
All is well that ends well
ایک اور کہانی دو سگے بھائیوں کی ہے اعظم اور معظم
. اعظم اپنی روایتی طراری اور کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لمبے عرصے تک اپنے چھوٹے بھائی کے بھولپن اور شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وراثت میں ملنے والے کمبل، گدھے اور کھجور کے درخت سے فائدہ خود اٹھاتا ہے اور چھوٹے بھائی سے مشقت کرواتا ہے، آخر کار گاوں کا ایک سیانا معظم کو اعظم کے بے جا چنگل سے نجات دلواتا ہے. دنیا میں یہ بے جا زیادتیاں، خواہ مخواہ کے حساب کتاب، تیری میری کے جھگڑے ہی جنگ و جدل اور خواہ مخواہ کی لڑائیوں کی وجہ ہیں. دنیا کا کوئی مذہب لڑائی جھگڑے کا پرچار نہیں کرتا.
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا.
دوستی. مروت. لحاظ. رکھ رکھاو ہی ہر مذہب کا بنیادی قاعدہ ہیں. یہ اور بات یا کہہ لیں کہ نسل آدم کی بد نصیبی کہ انسان خواہ مخواہ کے لالچ میں پڑ کے اپنے آپ کو بالکل تنہا کر گیا. اسی نفسانفسی اور لالچ کے سبب انسان آفرینش سے اب تلک خون ناحق سے اپنے ہاتھوں کو رنگ رہا ہے.
چودہ اگست انیس سو سینتالیس. ستائیس رمضان المبارک کو معرض وجود میں آنے والی مملکت جسے مکمل طور پہ اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تھا اور جس کا نام پاکستان رکھا گیا تھا گرچہ ہندو انگریز گٹھ جوڑ اور سیاست کی مکروہ چالوں کے سبب پاکستان کو پیدا ہوتے ہی دو لخت کر دیا گیا تھا مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان جو فاصلوں کے پاٹ میں ہی نہیں پستے تھے بلکہ ان کی ثقافت، رہن سہن، رکھ رکھاو سب کچھ ہی جدا تھا اور دشمن انیس سو اکہتر میں ہمارے اپنوں ہی کی خانہ جنگی کا. فایدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو بڑے آرام سے دو لختِ کر گیا. مگر سچ یہی کہ چالیں دشمنوں کی اور سیاپے گھر والوں کو
چلی ہے دشمنوں نے چال ایسی
کہ. اپنوں میں ہی جھگڑا ہو رہا ہے،
بہرحال انسان سکون حاصل کرنے کے لیے بہشت بدر. گھر بدر. محلہ بدر. شہر بدر. ملک بدر اور در بدر ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ انسان کے من میں ایک ایسی بے چینی کا بیج بو دیا گیا ہے جو اسے آخری سانسوں تک بدحال، پر ملال اور نڈھال رکھتا ہے ہر شخص اپنے آپ کو کو و بیش نعوذبااللہ خدا ہی سمجھتا ہے اور خدا سمجھتے سمجھتے ہی خدا کو پیار ا ہو جاتا ہے.
ہر شخص ہی رانجھا ہے
ہر نار ہی ہیر بھلے
زنجیر کے پھندوں میں
تیری تقدیر بھلے
جب پاکستان اور بھارت مذہبی بنیادوں پہ الگ ہوے تو ایک معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ بھارت. پاکستان کو پانی کی سپلائی جاری رکھے گا اور پاکستان کھیوڑہ نمک کی کان جو دنیا میں نمک کی دوسری بڑی کان اور سرخ نمک کی پہلی بڑی کان ہے کا نمک بغیر معاوضے کے بھارت کو دے گا. پاکستان آج بھی اپنے وعدے کی پاسداری اور وفاداری میں نمک بھارت تک واہگہ بارڈر کے راستے بغیر کسی تعطل کے پہنچا رہا ہے بلکہ اتنی وافر مقدار میں پہنچا رہا ہے کہ انڈیا اس وافر نمک پہ میڈ ان انڈیا کا ٹیگ لگا کر دوسرے ممالک کو نمک امپورٹ کر رہا ہے. کیا دھونس ہے؟ اور کیا شان بے نیازی ہے عجب طرح کی غنڈہ گردی ہے. اور رہی بات بھارت کے دریاوں کی پاکستان کو فراہمی کی تو آپ صرف دریائے راوی کو ایک نظر دیکھ لیجیے جو دریا کم اور میدان زیادہ دکھتا ہے کیونکہ بھارت نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ملک میں ڈیموں کا جال پھیلا لیا اور ہمارے سر سبز میدانوں کو بنجرکر دیا ہاے ہاے
کس نے کیا چال چلی یاد نہیں
اس قدر یاد ہے سب اپنے تھے
تو یاد رکھیے اپنے ہی اپنوں کی گردن مارتے ہیں قابیل، ہابیل کا بھای ہی تھا سگا بھائی یوسف کو کنویں میں گرانے والے اس کے اپنے بھای تھے. حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلانے والے ان کے اپنے گھر کے لوگ تھے. حسین علیہ سلام کو ان کے پورے خاندان کے ساتھ کوفے میں بلا کے نظریں پھیر جانے والے ان کے اپنے نانا کے امتی تھی تو یاد رکھیے گا ہم بھلے فاتح دنیا بھی ہو جایں ہمیں مات ہمیشہ اپنوں ہی کے ہاتھوں ہوتی ہے.
کیا مجھے مارتا زمانہ یہ
میری تو موت میرے اپنے تھے
کوئی نہ کھولے بند آنکھیں میری
آنکھوں میں دفن میرے سپنے تھے
تو کھانوں میں نمک ذایقے کا بادشاہ ہے میٹھا تو تھوڑا سا کھانے کے بعد ہی لیتے ہیں اور بظاہر تیزی طراری سے آپ ہمالے کو بھی چھو لیں مگر یقین کیجئے کسی حقدار کا حق چھین کے نہ ہی آپ کو چین آے گا اور نہ ہی سکون کی نیند. رب ذوالجلال کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت کھیوڑہ ماینز کا لال اور مزے دار نمک شکر ہے مالک.
آپ سب سلامت رہیں آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Leave a Reply