rki.news
عامرمُعانؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق ہمارے ہر دل عزیز ٹرمپ دادا نے اپنی بھرپور داداگیری کا آغاز وینزویلا پر طاقت کے استعمال سے کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ پچھلے سال 2025 میں امن کے داعی بن کر دنیا بھر میں جنگ رکوانے کے دعویدار، اور نوبل انعام کا خود کو حقدار سمجھنے والے ہمارے ٹرمپ دادا نے نوبل انعام نہ ملنے کا بدلہ نوبل انتظامیہ کے بجائے پوری دنیا سے لینے کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ بغیر سانس لئے ہم کو یہ سارا بیان بہت دن کے بعد آئے بدھو میاں نے یوں سنایا جیسے ٹرمپ کو نوبل انعام نہ ملنے کی وجہ یہ بندہ ناچیز ہی ہے۔ اتنے جوشیلے انداز میں سنانے سے ہمیں یہ گمان ہو رہا ہے جیسے ٹرمپ نے مشیر کے عہدے پر بدھو میاں کی تعیناتی کر دی ہے۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر دھاوا بول کر جس طرح صدر نکولس مودورو اور ان کی بیگم صاحبہ سیلیا فلورس کو صدارتی محل سے اٹھا کر لے جایا گیا وہ اپنے آپ میں چھوٹے کمزور ممالک کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ٹرمپ کے اس قدم پر ہم نے بدھو میاں سے سوال کیا، کہ یہ تو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور یہ کسی بھی ملک کی آزادی کے خلاف بھی ہے۔ سوال سن کر بدھو میاں ہنستے ہنستے دہرے ہوتے ہوئے فرمانے لگے، لگتا ہے جناب آپ کے ذہن کو زنگ لگ گیا ہے، یا پھر آپ تاریخ سے واقف ہوتے ہوئے بھی بھولے بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دنیا اس جنگل کی طرح ہے جہاں صرف طاقت کا قانون چلتا ہے۔ لہٰذا چوہوں کے آپس میں مل کر قانون بنانے سے بلی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
اسی لئے ہمیشہ سے تاریخ ایک ہی سبق سکھاتی آئی ہے، کہ ممالک کو اپنے مضبوط دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہئیں، وگرنہ جنگل میں سارے ہرن مل کر بھی شیر سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ جناب کس قانون کے تحت آپ نے آج صبح ہمارے ایک ساتھی ہرن سے ناشتہ تناول فرمایا ہے، اور اب دوپہر کے کھانے میں دوسرا ہرن تناول فرمانے پر غور کر رہے ہیں۔
بدھو میاں طنزاً ہماری طرف دیکھ کر کہنے لگے۔ ٹرمپ کو نوبل انعام نہ دینے کی سزا اب ٹرمپ پوری دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جلا کر دے رہا ہے۔ بات وینزویلا پر رکنے تک نہیں رہی۔ اب تو ٹرمپ دادا ساری دنیا کو کھلم کھلا دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہم نے بدھو میاں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ جناب ان اقدامات کو صرف نوبل انعام سے نہ جوڑ کر نہ دیکھیں۔ ٹرمپ کے اقدامات ایک پوری پلاننگ سے کئے گئے اقدامات کا نقطہء آغاز نظر آ رہا ہے۔ ان اقدامات کی وجوہات میں امریکہ کے خلاف متحد ہوتے ممالک بھی ہیں، جو مستقبل میں امریکی معیشت اور ڈالر کرنسی کے لئے خطرہ بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سو ٹرمپ دادا نے ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن میں گزارے زندگی کے طویل تجربات سے سیکھا سبق دہرایا ہے، کہ فریق کو چاروں خانے چت کرنے کے لئے اچانک اور سبک رفتار حملہ کیا جاتا ہے۔ وینزویلا میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد، اب دادا جی گرین لینڈ پر قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ گرین لینڈ کو ہر صورت حاصل کرنے کا اعلان ببانگ دہل کر چکے ہیں۔ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کا مطلب ہو گا کہ بحری راستے پر حکمرانی کر کے ان ممالک کے اثر رسوخ کو ختم کیا جا سکے، جن کے ذریعے شمالی امریکہ کے ممالک کی رسائی روس اور چین تک ہونا ممکن ہو پا رہی ہے۔ ٹرمپ دادا نے بہت سوچ بچار کے بعد مستقبل کی پلاننگ پر عمل شروع کر دیا ہے۔ وہ امریکہ مخالف اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں میں بھرپور طور پر کاربند نظر آ رہے ہیں۔ وہ امریکی بالادستی کی طرف دوبارہ اڑان بھرنے کی تیاری میں مصروف ہیں، اور ان کے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنتا نظر آ رہا ہے، اس کو روندنا ان کا مقصد بن چکا ہے۔ ہندوستان کے روس سے تیل کی خریداری پر بار بار متنبہ کر کے ٹیرف بڑھانے والے ٹرمپ، اب بھی ہندوستان کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے روسی تیل کی خریداری میں کمی کرنے کے اعلان کا بھی ٹرمپ پر کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا، وہ مکمل بندش چاہتے ہیں، اور اب ہندوستان پر لگائے 50 فیصد ٹیرف کو یکدم 500 فیصد کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔
بدھو میاں نے مشیر امریکہ بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جو حالات بتائے تھے اس سے تو ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ دادا کو یہ سارے مشورے بدھو میاں ذاتی حیثیت میں دے کر آئے ہوں، لیکن اس سے قطع نظر بات پھر وہی ہے کہ دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بناتا ہے۔ وہ پالیسیاں چاہے دنیا کو جلا کر راکھ کر دے۔ عام لوگ اس سے لاکھ اختلاف کریں، لیکن مستقبل قریب میں ایک پرامن دنیا کا خواب ایک دیوانے کا خواب ہی نظر آتا ہے۔ یہاں امن کا قانون صرف ان ممالک پر لاگو ہوتا ہے جن میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ طاقتوروں کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔ شنید ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی اس پر کچھ ہلکی سی آواز بلند کی ہے، لیکن کیا اقوام متحدہ کی اتنی طاقت ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قانون پر عمل کرواتے ہوئے امریکہ کے پنجے سے مودورو اور ان کی بیگم صاحبہ کو چھڑوا کر دوبارہ وینزویلا کے تخت پر بٹھا سکے۔ اس کا جواب واشگاف الفاظ میں نفی کی صورت میں ہی ملے گا۔ وینزویلا کے بعد کولمبیا، کیوبا، ایران اور گرین لینڈ سمیت مختلف ممالک کو ببانک دہل امریکی جارحیت کی دھمکی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اقوام متحدہ کے بنائے گئے مکڑی کے جالے والے قانون کی امریکی ہاتھی یا کسی بھی طاقتور ملک کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ لہٰذا ٹرمپ دادا کی دادا گیری ہو یا دوسرے ملکوں کی چودھراہٹ، اس پورے سال دنیا پر کیا اثرات مرتب کرے گی یہ ابھی صرف ایک سوچ ہی ہے۔
یہ دنیا آگ میں جلنے لگی ہے
بجھا دے آگ یہ نفرت کی کوئی
Leave a Reply