rki.news
(تحریر احسن انصاری)
پاکستان کو اس وقت شدید پانی کے بحران کا سامنا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں، غیر مؤثر پالیسیوں اور قدرتی وسائل کے غلط استعمال کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) کے مطابق، ملک کو 51 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جو زرعی اور صنعتی شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیمز اپنی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں، جس کی وجہ سے صوبوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں ہو رہا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2025 تک پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 500 کیوبک میٹر سالانہ سے کم ہو جائے گی، جو پانی کی “شدید قلت” کی علامت ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیاں پانی کے بحران کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ قدرتی طور پر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، سمندری دھاروں میں تبدیلی، اور قطبین پر برفانی تہوں کا پگھلنا ایسے عوامل ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے آبی وسائل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئرز جو پاکستان کے دریاؤں کے بڑے ذرائع ہیں، تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، دریا شروع میں زیادہ پانی فراہم کرتے ہیں، مگر طویل مدتی اثرات کے تحت پانی کے ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں۔ ناسا کی تحقیق کے مطابق، زمین کے درجہ حرارت میں گزشتہ ایک صدی کے دوران 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث برف کے بڑے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
قدرتی ماحولیاتی تبدیلی کے تحت بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں موجود سمندری دھارے بھی بدل رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر جنوبی ایشیا کے موسم پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں بارشوں کا پیٹرن تبدیل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مون سون کے موسم میں غیر متوقع سیلاب اور خشک سالی کے دورانیے میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحولیاتی تبدیلی کے تحت “النینو” اور “لا نینا” جیسے موسمیاتی رجحانات بھی پاکستان کے پانی کے وسائل پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیر پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ 1976 کے بعد سے کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ موجودہ ڈیمز جیسے کہ منگلا اور تربیلا اپنی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ کھو چکے ہیں، جس سے پانی کی قلت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
پانی کے غیر مؤثر استعمال نے بھی اس بحران کو شدید تر کر دیا ہے۔ زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے، مگر فرسودہ آبپاشی کے نظام کی وجہ سے اس کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹمز عام ہیں، جو پانی کی کھپت کو کم کرتے ہیں، مگر پاکستان میں ان کا استعمال محدود ہے۔ شہری ترقی اور بڑھتی ہوئی آبادی نے بھی پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ صنعتی فضلہ اور نکاسی کے ناقص نظام کی وجہ سے آبی ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں۔
پاکستان کو بھارت کی آبی جارحیت کا بھی سامنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی فراہم کیا جانا تھا، مگر بھارت کی جانب سے متعدد ڈیمز کی تعمیر اور پانی کے بہاؤ کو روکنے کی پالیسی نے پاکستان کے دریاؤں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں پانی کی قلت مزید بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے سفارتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔
پانی کی کمی کے اثرات نہایت تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی کے باعث خوراک کا بحران پیدا ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان ہر سال پانی کی کمی کے باعث تقریباً 29 بلین ڈالر کا معاشی نقصان اٹھا رہا ہے۔ شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جو صحت کے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے، نئے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دینا ہوگی تاکہ پانی کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ، موجودہ ڈیمز کی دیکھ بھال اور صفائی کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ زراعت میں جدید آبپاشی کے طریقے اپنانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈرپ اور اسپرنکلر ایریگیشن جیسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جائے، تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے اور زرعی پیداوار میں بہتری لائی جا سکے۔
پانی کے غیر ضروری استعمال پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتی اور گھریلو سطح پر پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرائے جائیں۔ عوام میں پانی کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں پانی کے بچاؤ کی عادت اپنائیں۔ پانی کی ری سائیکلنگ اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
جنگلات کی بحالی بھی پانی کے بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ درخت زمین کی نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور اگر بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات چلائی جائیں تو نہ صرف بارشوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت کے ساتھ آبی معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو سفارتی سطح پر مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ غیر منصفانہ پانی کی بندش کو روکا جا سکے۔
پاکستان کا پانی کا بحران ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، لیکن اگر حکومت اور عوام سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پانی کے مؤثر انتظام، جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال، نئے ڈیمز کی تعمیر، جنگلات کی بحالی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عملی اقدامات کریں، ورنہ آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان میں پانی ایک قیمتی مگر ناپید وسیلہ بن جائے گا۔
Leave a Reply