Add Post
rki.news
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں اس گوتمی مجسمے سے پہلی دفعہ کب ملی تھی، ہاں میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس کے خوبصورت خدو خال، اونچی اٹھان، مسکراتے ہوئے چہرے، طبیعت کی حلیمی، حد سے زیادہ ادب لحاظ، رکھ رکھاو، دھیمے پن، منکسرالمزاجی، اور ہر کسی سے پیار سے بات کرنے کی اداسے مجھے ایسا ہی لگا جیسے میرا اس گوتمی مجسمے سے جنم جنم کا ناتا ہو، جیسے کوی بچپن کا میٹھی میٹھی باتیں کرنے والا وہ کھلونا جو آپ کو محبت کے اس جہان میں لے جاتا ہے جہاں نفرت نامی جذبے کی رتی برابر بھی جگہ نہیں، جہاں محبت ہی کا راج ہے، محبت ہی کی حکمرانی ہے، اور محبت ہی کی خدای ہے، تو اس گوتمی مجسمے کو جسے ساری دنیا نذیر قیصر کے نام سے جانتی ہے، سترہ جنوری 2026، ہفتے کے دن، اس گوتمی مجسمے کی اکیساویں سالگرہ پاک ہیریٹیج ہوٹل میں منای گءی، اس تقریب میں شرکت کے لیے گوتمی مجسمے کے چاہنے والے پورے ملک سے شامل تھے، خاص طور پر فیصل آباد سے تشریف لانے والے معزز مہمان قابل احترام شبیر احمد صدیقی اور اسلام آباد سے آنے والے مہمان ڈاکٹر عرفان صدیقی کا ذکر میں خاص طور پہ اس لیے بھی کرنا چاہوں گی کہ اس شدت کی سردی میں جہاں ایک گھر سے دوسرے گھر تک جانا جان جوکھوں کا کام لگتا ہے وہاں یہ نامی گرامی شخصیات کوسوں میل کا سفر کر کے صرف اور صرف اس گوتمی مجسمے کے دربار میں حاضری دینے بڑے خلوص اور چاہت سے پہنچیں،اس خلوص پیچھے ان شخصیات کی گوتمی مجسمے کے لیے محبت اور عقیدت اچھی طرح سے عیاں ہو تی دکھائی دیتی ہے. تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ صاحبہ، ماہر تعلیم نے، نذیر قیصر صاحب اور عابدہ قیصر جی کو تمام حاضرین محفل کی طرف سے پھولوں کا گلدستہ دے کر کیا. تمام لوگوں نے گوتمی مجسمے، نذیر قیصر صاحب کے منفرد اسلوب بیان اوران کی طلسماتی شخصیت کو اپنے اپنے الفاظ میں بھر پور خراج عقیدت و محبت پیش کیا، اسامہ عباس بہت ہی پیارے ابھرتے ہوے نو جوان گلوکار، جو کہ مشہور شاعر مرزا محمد عباس کے فرزند ارجمند ہیں نے نذیر قیصر صاحب کی چار غزلیں انتہائی خوبصورتی سے گا کر جشن نذیر قیصر کے میلے کو حقیقی معنوں میں لوٹ لیا. یہ جشن نذیر قیصر، محترم سیمی رمنیٹ جو کہ ایس آر پروڈکشن کے روح رواں ہیں نے سپانسر کیا، اس تنظیم کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب انیل لارنس اور سیکرٹری محترمہ صبا لارنس پورے پروگرام کے دوران جشن کے رنگوں کو مزید رنگ دیتے رہے اور جشن نذیر قیصر کو سپانسر کرنے والے سیمی رمنیٹ کی نذر نذیر قیصر صاحب ہی کا ایک خوبصورت، شعر ہے کہ
اچھے چہرے بھی دعا ہوتے ہیں
اچھے چہروں کی زیارت کرنا
اردو اور پنجابی میں یکساں ایک سے بڑھ کر ایک شعر کہنے والے نذیر صرف پراییڈ آف پر فارمنس اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ہی نہیں، امن کے سفیر بھی ہیں. مجھے نہیں معلوم انھوں نے کس سے عشق حقیقی کیا یا کس سے عشق مجازی اور کس کو اپنی قربت کے صرف چند پل ہی عطا کیے، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میں نے انھیں ہمیشہ امن، محبت اور خلوص کی چاشنی میں مست پایا. محبت وہ الہامی جذبہ ہے جو خون بن کے بلا تفریق رنگ و نسل سارے انسانوں کی رگوں میں دوڑتا ہے، محبت سانسوں کی روانی ہے اور کاروان زیست کی باگیں محبت ہی نے کس رکھی ہیں. جس طرح ہر سیکنڈ میں چار سے پانچ بچے پیدا ہوتے ہیں، ویسے ہی ہر سیکنڈ میں دنیا کے کونوں کھدروں میں تقریباً پچیس سے تیس ہزار مرد و زن ایک دوسرے کو آی لو یو یعنی مجھے تم سے محبت ہے کا سہانا خواب دکھا رہے ہوتے ہیں، مگر صرف پانچ فی صد لوگ ہی اس محبت کو آخری سانسوں تک نباہ پاتے ہیں، جیسے کہ نذیر قیصر اور عابدہ نذیر قیصر، وہ خوش نصیب میاں بیوی ہیں جو دنیا کے میلے میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، سجے سنورے جنت سے دنیا کی سیر کو آے ہوے ہیں اور ساری دنیا کو بہت ہی بھاے ہوے ہیں، میں اس خوبصورت کپل کو ہنسوں کا جوڑا کہتی ہوں، اس ہنسوں کے جوڑے میں محبت اور احترام کا ایسا حسین بندھن ہے کہ عابدہ جی، جب بھی کسی مسلے کو لے کر گوتمی مجسمے کے پاس جاتی ہیں، وہ پلک جھپکتے ہی اس مسئلے کو حل کر کے عابدہ جی کی گود میں ڈال دیتے ہیں.گوتمی مجسمے ہی کا ایک خوبصورت شعر ہے کہ
محبت میں کسی کو ملا ہے
محبت ہی محبت کا صلہ ہے
آج میںجشن نذیر قیصر میں گوتمی مجسمے کے ادبی مقام پہ بات کرنے نہیں آی، ان کے جشن نذیر قیصر کے شاندار انعقاد کے موقع پہ انھیں مبارک باد پیش کرنے آی ہوں، یہ ہنسوں کی جوڑی وہ لیلیٰ مجنوں، وہ سوہنی مہینوال، وہ شیریں فرہاد، وہ ہیر رانجھا، وہ رومیو جیولیٹ ہیں، جن کی پیار کی شدت ہر شدت سے اتنی زیادہ تھی کہ انھیں زمانے کی کوی طاقت بھی جدا نہ کر پای.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com
Leave a Reply