rki.news
مرادعلی شاہدؔدوحہ قطر
لاہور کے بارونق بازار میں ایک عورت اپنے بچے سمیت کھلے ہوئے گٹر میں جا گری،یہ محض ایک خبر نہیں ہے بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر گرا ہوا ایک سوال ہے،ایسا سوال جس میں دکھ،کرب،سوالیہ نشان،تلخ حقائق اور سماجی ذمہ داریاں سب شامل ہیں اور اس مین ہم سب بھی شامل ہیں۔لاہور جسے ہم پنجاب کادل بھی کہتے ہیں جس کے بارے میں ہماری ایک حکومت جو چار دہائیوں سے اس شہر اور صوبہ پر حکومت کے مزے لے رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہمیشہ سے یہی رہا کہ اگر ملک میں ترقی دیکھنی ہو تو آئیے پنجاب اور خاص کر شہر لاہور کو دیکھ لیں،بس دیکھ لی تیری چیچہ وطنی۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے سابق دارالحکومت روشنیوں کے شہر میں ایسا ہی ایک سانحہ ہوا کہ دل کے اجالے میں ایک شخص گٹر کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے مین ہول میں جا گرا تو تخت لاہور کے وارثین کے اس سا نحہ پر حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مشہور زمانہ مثال کو بھی پیش کیا کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوک سے مرجائے تو حضرت عمر جوابدہ ہیں تو پھر حکومت کو بھی جوبدہ ہونا پڑے گا،تو کیا اب ان سب سوالوں اور مثالوں کی عملی تفسیر واقعہ لاہور کے بعد بھی پیش کی جائے گی یا پھر وہی معافی تلافی،چند افسران کو گھر بھیج دیا جائے تین ماہ مع تنخواہ کے بعد پھر سے نوکری پر بحال کردیا جائے،یا پھر کوئی ایسی دفعہ بھی لگائی جائے گی کہ اس واقعہ کو آنے والی نسلوں کے لئے نشان عبرت بھی بنا دیا جائے گا۔
یاپھر ایسا ہوگا کہ چند دنوں بعد ہی ماں کی چیخیں بچے کی سسکیاں اور شہر میں خامشی ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوکر مکمل سکوت اختیار کر لے گی۔یہ سانحہ مکمل نظام کی تباہی اور ناکامی کی نشاندہی کے لئے کافی ہے جو برسوں سے کھلے ڈھکنوں کی صورت میں ہمارے سامنے منہ چڑا رہی ہے۔جس ملک میں روزی روٹی کے لئے میں قیام پذیر ہوں میں نے دودہائیوں میں ایسا کوئی گٹر نہیں دیکھا یا جس علاقے میں ترقیاتی یا مرمتی کام سرانجام دئے جا رہے ہوں وہاں مکمل سیفٹی انتظامات نہ ہوں،بلکہ یہاں کی حکومت کا عملا کہنا یہ ہے کہ سب سے پہلے سیفٹی،اور اس عمل میں وہ کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرتے اگر کسی کمپنی کو نااہل پاتے ہیں تو اس کمپنی کو بھاری جرمانہ یا مکمل طور پر ان کا لائسنس کینسل کرنے میں کسی قسم کا دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔اس ڈڑ کی وجہ سے اس ملک میں کمپنیاں کام بعد میں شروع کرتی ہیں سیفٹی کے انتظامات پہلے کرتی ہیں۔ایسی ہوتی ہیں فلاحی ریاستیں نا کہ ہر واقعہ کے بعد دو تین افسران کو تین ماہ کے لئے مع تنخواہ گھر بھیج کر نئے واقعہ میں انتظار میں بیٹھی حکومتیں۔
یہ عورت کسی فلم کا کردار نہیں تھی نہ کسی خبر کی زینت کا شوق رکھتی تھی وہ ایک ماں تھی جو اپنے بچے کو سنبھالے نہ جانے کیا کیا سہانے خواب اور ان کی تعبیر کے لئے لاہور کی سڑکوں پہ نکلی ہوگی اسے کای خبر کہ کھلے گٹر کا ایک مین ہول پھندہ لگائے اس کا منتظر ہے جو اس کے خوابوں سمیت اس کے بچے کو بھی نگل لے گا۔وہ بچہ جس کے بارے میں نہ جانے ماں نے کیا کیا مستقبل کے سنہرے خواب سجا رکھے ہوں گے،اس کے روشن مستقبل اور سہارے کی نوید اور امید ہوگا۔نہ جانے اس میں قصور وار کون ہے ایک ماں یا ”سب دی ماں“ کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک واقعہ کے بعد ہم سب کسی دوسرے سانحہ کے منتظر رہتے ہیں اور حکومت وقت کی چاپلوشی کے لئے شام ڈھلتے ہی کیا کیا صورتیں لمبی لمبی زبانوں سمیت کیڑے مکوڑوں کی طرح نکل کر سامنے آجاتی ہیں۔ہمارا معاشرتی رویہ بھی اب ایسا ہی ہوگیا ہے کہ گٹر کھلا ہے تو اس سوچ کے ساتھ اسے دیکھ کر نکل جاتے ہیں کہ چلئے میں نے تو اسے پار کر ہی لیا ہے دوسرا آئے گا تو اسے دیکھ لے گا۔یا پھر ابھی مجھے جلدی ہے بعد میں ڈھک لیں گے،جب ڈھکنے کی نوبت آتی ہے تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔کوئی ماں،بچی،کوئی فقیر یا پھر کوئی موٹر سائیکل والا اس میں گر کر جان کی بازی ہار چکا ہوتا ہے۔حادثہ کی تحقیقات جب تک مکمل ہوتی ہے ایک خاندان اپنی زندگیاں ہار چکا ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وہ عورت گٹر میں گر کر کیوں مر گئی؟
اصل سوال یہ ہے کہ وہ گٹر کھلا کیوں تھا،اس کے ذمہ داران کہاں سو رہے تھے۔افسران کی ایک پوری فوج ظفر موج جن کے پروٹوکول ہی سارا دن نہیں تھمتے،وہ کیا افیون کھا کر سو رہے تھے۔وہ تمام ذمہداران جن کو وزیراعلیٰ نے اپنے آفس بلا رکھا تھا اس سے قبل وہ کیا کر رہے تھے۔گرم نرم ہیٹر لگے دفاتر سے نکلیں تو عوامی مسائل اور تکالیف کا پتہ چلے کہ شہر میں عوام کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ان کی نظر مین تو سب اچھا ہے جیسے ہماری ایک وزیر صاحبہ نے کہہ دیا کہ سب جعلی خبریں ہیں کیونکہ بتانے والوں نے انہیں یہی بتایا تھا کہ میڈم سب اچھا ہے۔آپ بھی ہماری طرح چپ کی بکل مار کر خومشی سادھ کر سوئے رہیں۔چونکہ یہ ایک کم ترقی یافتہ علاقہ تھا اس لئے کسی قسم کی سیکیورٹی اور سیفٹی دکھائی نہیں دی،اگر یہی سانحہ کسی پوش علاقے مین رونما ہوتا تو کیا وہاں بھی ایسے ہی گٹروں کے ڈھکن کھلے ہوتے؟
یہ حادثہ،سانحہ یا واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے ایک ایسا آئینہ جس میں ایک انسانی جان کی قیمت بلکہ دو دو انسانوں کی جان کی قیمتیں لوہے کے ایک ڈھکن سے بھی کم دکھائی دیتی ہے۔ہم نے میگا پراجیکٹس تو بنا لئے اور اپنی واہ واہ بھی کروالی اور بے حساب تشہیر بھی ہم نے شہروں کو کنکریٹ سے تو بھر دیا مگر ایک ڈھکن کے نہ ہونے سے دو انسانوں کی زندگیوں کو نہ بچا سکے۔یہ ماں اور بچہ متاثرہ افراد نہیں بلکہ ہمارے کوکھلے نظام کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے جس میں سب ننگے نظر آرہے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لو۔جاگ جاؤ،اپنے اپنے ضمیروں کو جھنجھوڑ لو،اپنی آنکھیں کھول لو کیونکہ ہو سکتا ہے اگلی خبر آپ کی نہ ہو،اگلا سوال شائد آپ سے نہ پوچھا جائے،اور اس بارے میں جواب دینے والا بھی کوئی نہ ہو۔یہ عورت اور بچہ گٹر میں نہیں گرے یہ ہماری ترجیحات میں گر گئے ہیں۔
Leave a Reply