rki.news
تحریر: طارق محمود
میرج کنسلٹنٹ
ایکسپرٹ میرج بیورو
ہم ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں آوازوں کی بھرمار ہے،
مگر گفتگو ناپید ہوتی جا رہی ہے۔
الفاظ وافر ہیں، مگر فہم نایاب۔
ہر شخص بول رہا ہے،
مگر سننے والا کوئی نہیں۔
اور پھر شکوہ یہ ہے کہ
ہر بات جھگڑے میں کیوں بدل جاتی ہے۔
مسئلہ سچ بولنے کا نہیں،
مسئلہ سچ بولنے کے سلیقے کا ہے۔
ہم نے سچ کو اصلاح کے بجائے
اذیت کا ہتھیار بنا لیا ہے،
حالانکہ سچ کی اصل طاقت
اس کے لہجے میں ہوتی ہے،
اونچی آواز میں نہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے
کہ گفتگو کا آغاز کسی سادہ نکتے سے ہوتا ہے،
مگر چند جملوں بعد
موضوع بدل جاتا ہے،
مؤقف سخت ہو جاتا ہے
اور مقصد انا کی نذر ہو جاتا ہے۔
یوں بات مکمل نہیں ہوتی،
صرف تعلق زخمی ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگ فخر سے کہتے ہیں
“میں تو منہ پر سچ کہتا ہوں،
مجھے کسی کی پرواہ نہیں”۔
انہیں اس پر حیرت نہیں ہوتی
کہ لوگ ان سے کترانے کیوں لگتے ہیں۔
وہ یہ نہیں سمجھ پاتے
کہ سچ کہنا جرأت ہے،
مگر ہر سچ ہر وقت
ہر لہجے میں کہہ دینا
دانشمندی نہیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
جو سننے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔
جواب ذہن میں تیار ہوتا ہے
بات مکمل ہونے سے پہلے۔
پھر یہی لوگ شکایت کرتے ہیں
کہ “ہمیں کوئی سمجھتا ہی نہیں”۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے
کہ جو سننا نہیں سیکھتا
وہ سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔
ہم نے بولنا سیکھ لیا ہے،
مگر بات کرنا نہیں سیکھا۔
ہم ردِعمل دیتے ہیں،
جواب نہیں دیتے۔
اور ردِعمل ہمیشہ جذباتی ہوتا ہے،
جبکہ جواب شعور مانگتا ہے۔
یہی فرق
ہماری گفتگو کو کمزور بنا دیتا ہے۔
اصل کمی خاموشی کی ہے۔
وہ خاموشی جو سوچنے کا وقت دیتی ہے،
جو دل کے انتشار کو سمیٹتی ہے
اور لفظوں کو وزن عطا کرتی ہے۔
بولنے سے پہلے ایک لمحہ رک جانا
اکثر پوری گفتگو کو بچا لیتا ہے۔
ہم اختلاف کو دشمنی سمجھ بیٹھے ہیں،
حالانکہ اختلاف
صرف زاویۂ نظر کا فرق ہوتا ہے۔
جب ہم “آپ غلط ہیں” سے بات شروع کرتے ہیں
تو مکالمے کے دروازے
خود ہی بند کر لیتے ہیں۔
اور جب کہتے ہیں
“میں اسے یوں دیکھتا ہوں”
تو بات آگے بڑھنے لگتی ہے۔
لہجہ نرم ہو
تو سخت بات بھی سنی جا سکتی ہے۔
ایک اور المیہ یہ ہے
کہ ہم ایک وقت میں کئی باتیں چھیڑ دیتے ہیں۔
ایک نکتہ ابھی مکمل نہیں ہوتا
کہ دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔
یوں بات واضح ہونے کے بجائے
بکھر جاتی ہے۔
سادگی، ترتیب اور اختصار
گفتگو کے حسن ہیں،
مگر ہم انہیں کمزوری سمجھتے ہیں۔
گفتگو کی روح سننے میں ہے۔
سننا محض خاموش رہنے کا نام نہیں،
بلکہ دوسرے کو اہم سمجھنے کا اعلان ہے۔
آنکھوں سے رابطہ،
درمیان میں مداخلت سے گریز
اور آخر میں سامنے والے کی بات
اپنے الفاظ میں دہرا دینا—
یہ سب اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
گفتگو کا مقصد
جیتنا نہیں ہونا چاہیے،
کیونکہ ہر جیتی ہوئی بحث
کسی نہ کسی ہارے ہوئے رشتے کی قیمت پر ہوتی ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے
کہ بات بھی ہو جائے
اور تعلق بھی محفوظ رہے۔
یاد رکھیے،
اچھی گفتگو ذہانت کا نہیں
شعور کا امتحان ہوتی ہے۔
اور شعور
دلیل سے نہیں،
مشق اور تربیت سے پیدا ہوتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں
کہ آپ کتنا اچھا بولتے ہیں،
اصل سوال یہ ہے
کہ کیا آپ واقعی بات کرنا جانتے ہیں؟
اگلی گفتگو میں
فیصلہ آپ کو کرنا ہے:
کیا آپ صرف بولیں گے—
یا واقعی بات کریں گے؟
Leave a Reply