rki.news
میرے کانوں میں حدیث نبوی کے الفاظ گونجنے لگتے ہیں،
کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کا کوی ایک حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو تکلیف پورے جسم کو محسوس ہوتی ہے، اور یہ روزمرہ مشاہدے کی بات ہے کہ اگر ہمارے ایک دانت میں درد ہو تو پورا جسم ہی اس دانت کے درد کو محسوس کرتا ہے، بے چین ہو جاتا ہے، ہم کھانا پینا بھول جاتے ہیں ہم سونا، ہنسنا کھیلنا، روزمرہ کے کام کرنا بھول جاتے ہیں، ہم کہیں آنے جانے جوگے نہیں رہتےجب تک کہ ہم اپنی بیماری سے نجات نہیں پا لیتے. اپنی کسی بھی جسمانی یا ذہنی بیماری کی وجہ سے ہمارے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہو جاتی ہیں، دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگتی ہیں، آنسوؤں کے جھرنے رواں ہو جاتے ہیں، ہچکیوں کے ساتھ رونے کا عذاب بھی کبھی کبھی قریہ جسم و جان پہ اتر آتا ہے، سانسیں بند ہونے لگتی ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ آخری سانسوں تک جا پہنچے، یہ آخری سانسوں تک پہنچ جانا بھی کتنی بڑی آزمائش ہے ناں؟؟؟ ؟
آخری سانسوں کا مطلب ہے کہ اب وقت آخر آن پہنچا، اب مسافر، سراے سے رخصت ہوا چاہتا ہے، اب رنگینی دنیا سے لطف اندوز ہو نے کا وقت ختم ہو ا چاہتا ہے، اب بہاروں، نظاروں اور قطاروں کی مہلت ختم ہے اب روز جزا کا سامنا ہو گا اب اعمال نامے کھنگالے جایں گے اب گناہ و ثواب کے گوشواروں کی جمع تفریق ہو گی اب آن پہنچا وہ وقت جب نتائج ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے، اب ہاتھ دایاں ہو گا یا بایاں، اس کا دارومدار اعمال کے اوزان پہ ہو گا، ہاں اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس دن کسی بھی انسان کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو گی،
شرک کی سزا تو لازم گی
یاد رکھیے گا بھولیے گا نہیں
تو یہ امت مسلمہ کو انگ انگ سمجھنے کی ضرورت جتنی آج سے چودہ سو سال قبل تھی، آج اس سے کہیں زیادہ ہے، اس وقت ہم تعداد میں کم تھے مگر جذبہ ایمانی تازہ اور طاقتور تھا آج ہم تعداد میں زیادہ ہیں تقریباً ستاون ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں، دنیا کی کل آٹھ ارب آبادی میں سے تقریباً ایک ارب مسلمان ہیں، تو پھر ہم کیسے کمزور پڑ گیے؟
کیوں اندھے، گونگے اور بہرے ہو گیے؟؟
کہ ہمیں ہمارے اپنے ہی بدن کے مصیبت زدہ انگ دکھای نہیں دیتے.
وہ مصیبت میں ہیں
وہ تکلیف میں ہیں.
وہ بھوکے ہیں
وہ پیاسے ہیں
ان کے گھروں کو
مسمار کیا جا چکا ہے
ان پہ خوف، بندوقیں، کلاشنکوفیں اور بارود مسلط کر دیا گیا ہے.
انھیں اپنے ہی گھر میں یر غمال بنا دیا گیا ہے
انھیں اپنے ہی دیس سے دیس نکالا دیا جا رہا ہے
ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے
ان کی ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے
تو مجھے درد اور تکلیف محسوس کیوں نہیں ہوتی؟
ہم تو اٹوٹ انگ تھے
تو شاید ہم واقعی میں ہی اندھے، گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں، بے حسی کی انتہاؤں پہ بے حس، شاید ہم سانسوں کی روانی کے سنگ مردے ہی ہیں کاش ہمارے اندر وہ جزبہ ایمانی بیدار ہو جاے کہ ہم اپنے بدن کے ایک حصے کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے مردانہ وار ساری دنیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جایں اور اپنے حقوق کی سر اٹھا کر جنگ لڑ سکیں.
تو پھر اس وقت تلک کیسی عیدیں اور کیسی شب براتیں.؟ ؟؟
ہم کیسے عید منائیں گے
ہم کیسے عید منائیں گے
دل کے خالی کمروں کو کیا، بس یادوں سے مہکایں گے
نینوں سے بہتے جھرنوں کو
کس کس سے ہم چھپایں گے
ہم اہل ہنر، ہم اہل وفا
کس چتا کو آگ دکھایں گے
کس خوف کو اوڑھیں گے تن پر
کس غم کی دیگ چڑھایں گے
کس خون سے بہتے جھرنے میں
ہم بچوں کو نہلائیں گے
جہاں خواب تھے آخری سانسوں پہ
اس دیس میں کیسے جائیں گے
ہم اپنے بھائی بندوں کو
کیسے، کس طرح بچایں گے
عیدالفطر تو ہے پر سچ میں بتاییے گا کہ ہم کیسے عید منائیں گے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gmail,com
Leave a Reply