ہوا ہے سرد سرد سی
فضا ہے زرد زرد سی
اُڑ رہی ہے
یادوں کی گرد گرد سی
کُھلا آسماں
بادلوں سے گِھرا
یادوں کی اوس
گر رہی ہے
منجمد یادیں
پگھل رہی ہیں
وہی پل
آج پھر
یاد آرہے ہیں
سردیوں کے ساتھ
تمہارا ساتھ
آج پھر مل رہا ہے
زمانہ وہی پرانا
پھر لوٹ آیا ہے
زیست میں وہی
شامیں
خوب صورتی بکھیر رہی ہیں
ساتھ ہو رہا ہے
خوب سے خوب صورت
ہوا سرد اور موسم خنک
کافی کے کپ
کے ساتھ
یادوں کی بارات
ماضی سے
حال میں ڈھل گئی ہے
Leave a Reply